صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب استحباب استعمال المغتسلة من الحيض فرصة من مسك في موضع الدم:
باب: حائضہ کا غسل کرنے کے بعد مشک لگا روئی کا ٹکڑا خون کی جگہ میں استعمال کرنا مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 332 ترقیم شاملہ: -- 752
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ شَكَلٍ، عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَغْتَسِلُ إِحْدَانَا إِذَا طَهُرَتْ مِنَ الْحَيْضِ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ: غُسْلَ الْجَنَابَةِ.
(شعبہ کے استاد) ابراہیم بن مہاجر سے (شعبہ کے بجائے) ابواحوص کی سند سے صفیہ بنت شیبہ کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اسماء بنت شکیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی عورت غسل حیض کرے تو کیسے نہائے؟ اور (اسی طرح) حدیث بیان کی اور اس میں غسل جنابت کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 752]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اسماء بنت شکیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جب ہم میں سے کوئی عورت غسل حیض کرے (حیض سے پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے) تو کیسے نہائے؟ اور اوپر والی حدیث بیان کی اور اس میں غسل جنابت کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 752]
ترقیم فوادعبدالباقی: 332
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 752 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 752
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
فِرْصَة:
روئی کا گالا یا کپڑے کا ٹکڑا۔
(2)
مِسْك:
کستوری۔
(3)
آثَارُالدَّم:
خون کے اثرات مقصود شرم گاہ ہے،
کہ کستوری سے معطر روئی کا گالا یا کپڑا سے مخصوص جگہ کو معطر کر لے۔
(4)
مُمَسَّكَة:
کستوری سے معطر۔
(5)
شئُونُ رَاْسِهَا:
سر کے بالوں کی جڑیں۔
فوائد ومسائل:
جب عورت حیض سے فراغت کے بعد غسل کرے تو پوری طرح نظافت اور پاکیزگی کے لیے خون کی بو کو ختم کرنے کے لیے کستوری استعمال کرے یا خوشبو بھی میسر ہو اس کو استعمال کر لے اور جمہور کے نزدیک نفاس کا حکم بھی حیض والا ہے۔
نیزخوشبو کا ستعمال بہتر اور پسندیدہ عمل ہے فرض وواجب نہیں۔
مفردات الحدیث:
(1)
فِرْصَة:
روئی کا گالا یا کپڑے کا ٹکڑا۔
(2)
مِسْك:
کستوری۔
(3)
آثَارُالدَّم:
خون کے اثرات مقصود شرم گاہ ہے،
کہ کستوری سے معطر روئی کا گالا یا کپڑا سے مخصوص جگہ کو معطر کر لے۔
(4)
مُمَسَّكَة:
کستوری سے معطر۔
(5)
شئُونُ رَاْسِهَا:
سر کے بالوں کی جڑیں۔
فوائد ومسائل:
جب عورت حیض سے فراغت کے بعد غسل کرے تو پوری طرح نظافت اور پاکیزگی کے لیے خون کی بو کو ختم کرنے کے لیے کستوری استعمال کرے یا خوشبو بھی میسر ہو اس کو استعمال کر لے اور جمہور کے نزدیک نفاس کا حکم بھی حیض والا ہے۔
نیزخوشبو کا ستعمال بہتر اور پسندیدہ عمل ہے فرض وواجب نہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 752]
صفية بنت شيبة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق