صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب في تفسير آيات متفرقة
باب: متفرق آیات کی تفسیر کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 3018 ترقیم شاملہ: -- 7532
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله " وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ سورة النساء آية 127 الْآيَةَ، قَالَتْ: هِيَ الْيَتِيمَةُ الَّتِي تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ لَعَلَّهَا أَنْ تَكُونَ قَدْ شَرِكَتْهُ فِي مَالِهِ حَتَّى فِي الْعَذْقِ، فَيَرْغَبُ يَعْنِي أَنْ يَنْكِحَهَا وَيَكْرَهُ أَنْ يُنْكِحَهَا رَجُلًا، فَيَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ فَيَعْضِلُهَا ".
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد سے خبر دی انہوں نے اللہ عزوجل کے فرمان: "اور یہ لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہیے اللہ تمھیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔" مکمل آیت کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: یہ ایسی یتیم لڑکی (کے بارے میں) ہے جو کسی آدمی کے پاس ہوتی ہے شاید وہ ایسی بھی ہوتی ہے کہ وہ اس کے مال میں حتیٰ کہ کھجور کے درختوں میں بھی اس کے ساتھ شریک ہوتی ہے وہ خود بھی اس سے روگردانی کرتا یعنی اس سے شادی کرنے سے اور کسی اور کے ساتھ اس کی شادی کر کے اس (شخص) کو اپنے مال میں شریک کرنے کو بھی پسند نہیں کرتا تو وہ اسے ویسے ہی رہنے دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7532]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں، فرما دیجیے، اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے، الا یہ﴾ [سورة النساء: 127] کے بارے میں فرماتی ہیں کہ اس سے مراد وہ یتیم بچی ہے جو کسی مرد کی سرپرستی میں ہے، شاید کہ وہ اس مرد کے مال میں حصہ دار ہے، حتیٰ کہ وہ کھجور کے درخت میں شریک ہے، تو وہ اس سے خود نکاح کرنے سے بے رغبتی اختیار کرتا ہے اور وہ اس کو بھی ناپسند کرتا ہے کہ کسی اور مرد سے اس کی شادی کر دے کہ وہ اس کے مال میں حصہ دار بن جائے گا، اس لیے وہ یتیم بچی کو (نکاح سے) روکے رکھتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7532]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3018
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7532 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7532
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
یتیم بچی جب اپنے عم زاد کی کفالت میں ہوگی،
تو پنے باپ کی وراثت میں حصہ لےگی،
اس لیے وہ اپنے ولی(سرپرست)
کے ساتھ مال میں حصہ دار ہوگی،
جب وہ آگے شادی کرلے گی،
تو اس کامال،
اپنے ولی کی نگرانی سے نکل کر یتیم بچی کے خاوندکی نگرانی میں چلاجائے گا اور یہ بات سرپرست کو پسند نہیں ہے،
اس لیے اگرچہ خود تو اس بچی کے ساتھ نکاح نہیں کرتا،
اس کا آگے بھی نکاح نہیں کرتا،
تاکہ اس کے مال پر تصرف کرنے کا موقع ہاتھ سے نہ نکل جائے،
شریعت اس ظلم کی کیسے اجازت دے سکتی تھی،
اس لیے اس کے بارے میں ہدایات نازل کی گئیں۔
فوائد ومسائل:
یتیم بچی جب اپنے عم زاد کی کفالت میں ہوگی،
تو پنے باپ کی وراثت میں حصہ لےگی،
اس لیے وہ اپنے ولی(سرپرست)
کے ساتھ مال میں حصہ دار ہوگی،
جب وہ آگے شادی کرلے گی،
تو اس کامال،
اپنے ولی کی نگرانی سے نکل کر یتیم بچی کے خاوندکی نگرانی میں چلاجائے گا اور یہ بات سرپرست کو پسند نہیں ہے،
اس لیے اگرچہ خود تو اس بچی کے ساتھ نکاح نہیں کرتا،
اس کا آگے بھی نکاح نہیں کرتا،
تاکہ اس کے مال پر تصرف کرنے کا موقع ہاتھ سے نہ نکل جائے،
شریعت اس ظلم کی کیسے اجازت دے سکتی تھی،
اس لیے اس کے بارے میں ہدایات نازل کی گئیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7532]
Sahih Muslim Hadith 7532 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق