🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1ق. باب في تفسير آيات متفرقة
باب: متفرق آیات کی تفسیر کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 3019 ترقیم شاملہ: -- 7533
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله " وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ سورة النساء آية 6، قَالَتْ: أُنْزِلَتْ فِي وَالِي مَالِ الْيَتِيمِ الَّذِي يَقُومُ عَلَيْهِ وَيُصْلِحُهُ إِذَا كَانَ مُحْتَاجًا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ ".
عبدہ بن سلیمان نے ہشام (بن عروہ) سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان: "اور جو فقیر ہو وہ دستور کے مطابق کھا لے" کے متعلق روایت کی (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: "یہ آیت یتیم کے مال کے ایسے متولی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اس کی نگہداشت کرتا ہے اور اس کو سنوارتا (بڑھاتا) ہے کہ اگر وہ ضرورت مند ہے تو اس میں سے (خود بھی) کھا سکتا ہے۔" [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7533]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس عزوجل کے فرمان:"اور جو فقیر ہو وہ دستور کے مطابق کھالے"(نساء:آیت نمبر۔6)کے متعلق روایت کی (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے)فرمایا:"یہ آیت یتیم کے مال کے ایسے متولی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اس کی نگہداشت کرتا ہے اور اس کو سنوارتا (بڑھاتا)ہے کہ اگر وہ ضرورت مند ہے تو اس میں سے کھاسکتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7533]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3019
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبدة بن سليمان الكوفي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7533 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7533
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
معروف طریقہ کے مطابق کھا سکتا ہے،
کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے،
اقوال مندرجہ ذیل ہیں۔

وہ یتیم کے مال سے اپنے عمل،
کارکردگی کے مطابق لے سکتا ہے،
حضرت عائشہ،
حسن بصری،
عکرمہ سے اور ابن عباس کا ایک قول یہی ہے۔

وہ یتیم کے مال سے ضرورت مندہونے کی صورت میں کھا سکتا ہے،
یعنی بقدر ضروت لے سکتا ہے،
حسن بصری،
ابراہیم،
عطاءاور مکحول کایہی نظریہ ہے،
صحیح نظریہ یہی ہے کہ وہ ضرورت مند ہونے کی صورت میں بقدر ضرورت لے سکتا ہے،
اگر ضرورت مند نہ ہوپھر نہیں لے سکتا۔

وہ یتیم کے مال سے بطور اجرت یا نان ونفقہ کے لیے نہیں لے سکتا،
ہاں بطور قرض لے سکتا ہے اور آسودگی پیدا ہونے پر قرض چکادے گا،
حضرت عمر رضی اللہ عنہ،
عبیدہ سلمانی،
سعید بن جبیر اور مجاہد وغیرہم کا یہی نظریہ ہے۔

اگر مال سونا،
چاندی یعنی نقدی ہوتو صرف بصورت قرض لے سکتا ہے،
اگر غلہ ہوتو بقدر حاجت لے سکتا ہے،
شعمی،
ابوالعالیہ اور ابن عباس کا اصح قول یہی ہے)
۔

اجرت ومزدوری اور نان ونفقہ میں سے جو کم خرچ ہے،
وہ لے سکتا ہے،
امام شافعی کا نظریہ یہ ہے(تفصیل کے لیے احکام القرآن للجصاص اور فتح الباری دیکھئے)
۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7533]

Sahih Muslim Hadith 7533 in Urdu