صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. بَابٌ فِي تَفْسِيرِ آيَاتٍ مُّتَفَرِّقَةٍ
باب: متفرق آیات کی تفسیر کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 3026 ترقیم شاملہ: -- 7549
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولَ: " كَانَتْ الْأَنْصَارُ إِذَا حَجُّوا، فَرَجَعُوا لَمْ يَدْخُلُوا الْبُيُوتَ إِلَّا مِنْ ظُهُورِهَا، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَدَخَلَ مِنْ بَابِهِ فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا سورة البقرة آية 189 ".
ابواسحٰق سے روایت ہے کہا: میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: انصار جب حج کر کے واپس آتے تو گھروں میں (دروازوں کے بجائے) ان کے پچھواڑے ہی سے داخل ہوتے انصار میں سے ایک شخص آیا اور اپنے دروازے سے (گھر کے اندر) داخل ہوا تو اس کے بارے میں اس پر باتیں کی گئیں تو یہ آیت اتری: "اور یہ کوئی نیکی نہیں کہ تم گھروں کے اندر ان کے پچھواڑوں سے آؤ۔" [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7549]
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار جب حج کر کے واپس آتے تو گھروں میں صرف ان کے پچھواڑوں سے داخل ہوتے تھے، چنانچہ ایک آدمی آیا تو وہ اپنے (گھر) کے دروازے سے داخل ہو گیا، تو اس سلسلے میں اسے طعنہ دیا گیا، جس پر یہ آیت اتری: ﴿وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا﴾ [سورة البقرة: 189] ”یہ نیکی نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کی پچھلی طرف سے آؤ، (پچھواڑوں سے آؤ)۔“ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7549]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3026
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7549 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7549
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حمس (قریشی اور خزاعہ وغیرھا)
کے سوا،
عرب لوگ اور انصار،
جب گھر سے حج اور عمرہ کے لیے نکلتے اور پھر کسی وجہ سے گھر آنے کی ضرورت پیش آتی،
تو وہ گھر میں دروازہ سے داخل ہونا صحیح نہیں سمجھتے تھے،
اسی طرح حج وعمرہ سے فراغت کے بعد،
دروازوں کی بجائے مکانوں کے پچھواڑوں سے یا کسی دوسرے راستہ سے داخل ہوتے،
شاید اس عجیب و غریب حرکت کا محرک یہ وہم ہو کہ جن دروازوں سے گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے نکلے تھے،
پاک ہوجانے کے بعد انھی دروازوں سے گھروں میں داخل ہونا،
درست نہیں ہے۔
فوائد ومسائل:
حمس (قریشی اور خزاعہ وغیرھا)
کے سوا،
عرب لوگ اور انصار،
جب گھر سے حج اور عمرہ کے لیے نکلتے اور پھر کسی وجہ سے گھر آنے کی ضرورت پیش آتی،
تو وہ گھر میں دروازہ سے داخل ہونا صحیح نہیں سمجھتے تھے،
اسی طرح حج وعمرہ سے فراغت کے بعد،
دروازوں کی بجائے مکانوں کے پچھواڑوں سے یا کسی دوسرے راستہ سے داخل ہوتے،
شاید اس عجیب و غریب حرکت کا محرک یہ وہم ہو کہ جن دروازوں سے گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے نکلے تھے،
پاک ہوجانے کے بعد انھی دروازوں سے گھروں میں داخل ہونا،
درست نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7549]
Sahih Muslim Hadith 7549 in Urdu
أبو إسحاق السبيعي ← البراء بن عازب الأنصاري