صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب فَضْلِ الأَذَانِ وَهَرَبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهِ:
باب: اذان کی فضیلت اور اذان سن کر شیطان کے بھاگنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 387 ترقیم شاملہ: -- 852
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ يَدْعُوهُ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "،
عبدہ نے طلحہ بن یحییٰ (بن طلحہ بن عبید اللہ) سے اور انہوں نے اپنے چچا (عیسیٰ بن طلحہ بن عبید اللہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ان کے پاس مؤذن انہیں نماز کے لیے بلانے آیا۔ تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: ”قیامت کے دن مؤذن، لوگوں میں سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 852]
طلحہ بن یحییٰ رحمہ اللہ اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ میں معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ان کے پاس مؤذن آیا اور ان کو نماز کے لیے بلایا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن مؤذنوں کی گردنیں سب لوگوں سے لمبی ہوں گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 852]
ترقیم فوادعبدالباقی: 387
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
852
| المؤذنون أطول الناس أعناقا يوم القيامة |
سنن ابن ماجه |
725
| المؤذنون أطول الناس أعناقا يوم القيامة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 852 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 852
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
مؤذن کو اذان کے لیے بہت مستعد اور چوکس ہونا پڑتا ہے اور سب لوگ اذان سن کر ہی نماز کا اہتمام کرتے ہیں،
اس لیے قیامت کو اسے یہ شرف اور اعزاز حاصل ہو گا کہ وہ سب سے ممتاز اور منفرد نظر آئے گا،
یا کثرت اجرو ثواب کی بنا پر اس کی گردن بلند ہو گی،
تاکہ میدان حشر کے پسینہ سے اس کا چہرہ محفوظ رہے۔
فوائد ومسائل:
مؤذن کو اذان کے لیے بہت مستعد اور چوکس ہونا پڑتا ہے اور سب لوگ اذان سن کر ہی نماز کا اہتمام کرتے ہیں،
اس لیے قیامت کو اسے یہ شرف اور اعزاز حاصل ہو گا کہ وہ سب سے ممتاز اور منفرد نظر آئے گا،
یا کثرت اجرو ثواب کی بنا پر اس کی گردن بلند ہو گی،
تاکہ میدان حشر کے پسینہ سے اس کا چہرہ محفوظ رہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 852]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث725
اذان کی فضیلت اور مؤذن کے ثواب کا بیان۔
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مؤذنوں کی گردنیں قیامت کے دن سب سے زیادہ لمبی ہوں گی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 725]
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مؤذنوں کی گردنیں قیامت کے دن سب سے زیادہ لمبی ہوں گی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 725]
اردو حاشہ:
فائده:
گردنیں لمبی ہونے سے اس کی سر بلندی اور سرفراززی کی طراف اشارہ ہے اور گردن کا حقیقت میں لمبا ہونا بھی مراد ہو سکتا ہے اور ظاہری معنی مراد لینا ہی زیادہ قرین صواب ہے۔
یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جب دوسرے لوگ پیاس کی وجہ سے پریشان ہوکر سر جھکائے ہوئے ہونگے لیکن مؤذن اس وقت خوش حال اور آسودہ ہوں گے۔
فائده:
گردنیں لمبی ہونے سے اس کی سر بلندی اور سرفراززی کی طراف اشارہ ہے اور گردن کا حقیقت میں لمبا ہونا بھی مراد ہو سکتا ہے اور ظاہری معنی مراد لینا ہی زیادہ قرین صواب ہے۔
یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جب دوسرے لوگ پیاس کی وجہ سے پریشان ہوکر سر جھکائے ہوئے ہونگے لیکن مؤذن اس وقت خوش حال اور آسودہ ہوں گے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 725]
Sahih Muslim Hadith 852 in Urdu
عيسى بن طلحة القرشي ← معاوية بن أبي سفيان الأموي