🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6ق. باب الكشف عن معايب رواة الحديث ونقلة الاخبار وقول الائمة في ذلك ‏‏
باب: حدیث کے راویوں کا عیب بیان کرنا درست ہے اور وہ غیبت میں داخل نہیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 92
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، ضَعَّفَ حَكِيمَ بْنَ جُبَيْرٍ وَعَبْدَ الأَعْلَى وَضَعَّفَ يَحْيَى مُوسَى بْنَ دِينَارٍ، قَالَ: حَدِيثُهُ رِيحٌ وَضَعَّفَ مُوسَى بْنَ دِهْقَانَ وَعِيسَى بْنَ أَبِي عِيسَى الْمَدَنِيّ،
بشر بن حکم نے بیان کیا، کہا: میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے سنا، انہوں نے حکیم بن جبیر اور عبدالاعلیٰ کو ضعیف قرار دیا اور (اسی طرح) یحییٰ نے موسیٰ بن دینار کو بھی ضعیف قرار دیا (اور) کہا: اس کی (بیان کردہ) حدیث ہوا (جیسی) ہے اور موسیٰ بن دہقان اور عیسیٰ بن ابی عیسیٰ مدنی کو (بھی) ضعیف قرار دیا۔ کہا: اور میں نے حسن بن عیسیٰ سے سنا، کہہ رہے تھے: مجھ سے ابن مبارک نے فرمایا: تم جب جریر کے پاس پہنچو تو تین (راویوں) کی احادیث کے سوا اس کا سارا علم لکھ لینا۔ عبیدہ بن معتب، سری بن اسماعیل اور محمد بن سالم کی احادیث اس سے نہ لکھنا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92]
بشر بن حکم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ سے سنا، انہوں نے حکیم بن جبیر اور عبدالاعلیٰ کو ضعیف قرار دیا، اور یحییٰ بن موسیٰ کی تضعیف کی اور فرمایا: اس کی حدیث «رِيحٌ» ہوا ہے، یعنی اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اور انہوں نے موسیٰ بن دہقان اور عیسیٰ ابی عیسیٰ مدنی کو بھی ضعیف قرار دیا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7


صحیح مسلم کی حدیث نمبر 92 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 92
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
یحیٰ بن موسیٰ بن دینار،
کا لفظ کسی راوی کا وہم ہے،
کیونکہ امام مسلمؒ کا مقصد تو یہ ہے کہ یحیٰ نے یعنی یحیٰ بن سعید القطانؒ نے موسیٰ بن دینار کو ضعیف قرار دیا،
یہ مقصد تو نہیں ہے کہ یحیٰ بن موسیٰ کو ضعیف قرار دیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 92]

اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B1
قََالَ: وَسَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عِيسَى، يَقُولُ: قَالَ لِي ابْنُ الْمُبَارَكِ: إِذَا قَدِمْتَ عَلَى جَرِيرٍ، فَاكْتُبْ عِلْمَهُ كُلَّهُ، إِلَّا حَدِيثَ ثَلَاثَةٍ لَا تَكْتُبْ، حَدِيثَ عُبَيْدَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ، وَالسَّرِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيل، وَمُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ،
حسن بن عیسیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے کہا: جب تم جریر رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہو، تو ان کا تمام علم (احادیث) لکھ لینا، مگر تین راویوں عبیدہ بن معتب، سری بن اسماعیل اور محمد بن سالم کی روایات نہ لکھنا (کیونکہ یہ تینوں ضعیف اور متروک راوی ہیں)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B1]
ترقیم فوادعبدالباقی:


اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 92B2
قَالَ مُسْلِم وَأَشْبَاهُ: مَا ذَكَرْنَا مِنْ كَلَامِ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي مُتَّهَمِي رُوَاةِ الْحَدِيثِ وَإِخْبَارِهِمْ، عَنْ مَعَايِبِهِمْ كَثِيرٌ يَطُولُ الْكِتَابُ بِذِكْرِهِ، عَلَى اسْتِقْصَائِهِ، وَفِيمَا ذَكَرْنَا كِفَايَةٌ لِمَنْ تَفَهَّمَ، وَعَقَلَ مَذْهَبَ الْقَوْمِ، فِيمَا قَالُوا مِنْ ذَلِكَ، وَبَيَّنُوا
امام مسلم رحمہ اللہ نے فرمایا: اور اسی کے مانند ہے جو ہم نے متہم راویوں کے بارے میں اہل حدیث کا کلام ذکر کیا ہے اور ان کے عیوب بہت زیادہ ہیں جن کے بیان کرنے سے کتاب لمبی ہو جائے گی اور جس قدر ہم نے بیان کر دیا ہے، وہ اس شخص کے لیے کافی ہے جو اس قوم کا مذہب سمجھ بوجھ جائے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B2]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7


اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B3
وَإِنَّمَا أَلْزَمُوا أَنْفُسَهُمُ الْكَشْفَ عَنْ مَعَايِبِ رُوَاةِ الْحَدِيثِ، وَنَاقِلِي الأَخْبَارِ، وَأَفْتَوْا بِذَلِكَ حِينَ سُئِلُوا لِمَا فِيهِ مِنْ عَظِيمِ الْخَطَرِ، إِذْ الأَخْبَارُ فِي أَمْرِ الدِّينِ، إِنَّمَا تَأْتِي بِتَحْلِيلٍ، أَوْ تَحْرِيمٍ، أَوْ أَمْرٍ، أَوْ نَهْيٍ، أَوْ تَرْغِيبٍ، أَوْ تَرْهِيبٍ، فَإِذَا كَانَ الرَّاوِي لَهَا لَيْسَ بِمَعْدِنٍ لِلصِّدْقِ وَالأَمَانَةِ، ثُمَّ أَقْدَمَ عَلَى الرِّوَايَةِ عَنْهُ مَنْ قَدْ عَرَفَهُ، وَلَمْ يُبَيِّنْ مَا فِيهِ لِغَيْرِهِ مِمَّنْ جَهِلَ مَعْرِفَتَهُ، كَانَ آثِمًا بِفِعْلِهِ ذَلِكَ غَاشًّا لِعَوَامِّ الْمُسْلِمِينَ، إِذْ لَا يُؤْمَنُ عَلَى بَعْضِ مَنْ سَمِعَ تِلْكَ الأَخْبَارَ، أَنْ يَسْتَعْمِلَهَا، أَوْ يَسْتَعْمِلَ بَعْضَهَا، وَلَعَلَّهَا، أَوْ أَكْثَرَهَا أَكَاذِيبُ لَا أَصْلَ لَهَا، مَعَ أَنَّ الأَخْبَارَ الصِّحَاحَ مِنْ رِوَايَةِ الثِّقَاتِ وَأَهْلِ الْقَنَاعَةِ، أَكْثَرُ مِنْ أَنْ يُضْطَرَّ إِلَى نَقْلِ مَنْ لَيْسَ بِثِقَةٍ، وَلَا مَقْنَعٍ،
اور حدیثوں کے اماموں نے راویوں کا عیب کھول دینا ضروری سمجھا اور اس بات کا فتویٰ دیا جب ان سے پوچھا گیا، اس لیے کہ یہ بڑا اہم کام ہے؛ کیونکہ دین کی بات جب نقل کی جائے گی تو وہ کسی امر کے حلال ہونے کے لیے ہو گی یا حرام ہونے کے لیے، یا اس میں کسی بات کا حکم ہو گا یا کسی بات کی ممانعت ہو گی، یا کسی کام کی طرف رغبت دلائی جائے گی یا کسی کام سے ڈرایا جائے گا۔ بہرحال جب راوی سچا اور امانت دار نہ ہو پھر اس سے کوئی روایت کرے جو اس کے حال کو جانتا ہو اور وہ حال دوسرے سے بیان نہ کرے جو نہ جانتا ہو، تو وہ گنہگار ہو گا اور عام مسلمانوں کو دھوکا دینے والا ہو گا۔ اس لیے کہ بعض لوگ ان حدیثوں کو سنیں گے اور ان سب پر یا بعض پر عمل کریں گے اور شاید وہ سب یا ان میں سے اکثر جھوٹی ہوں (اور بعض نسخوں میں یہ ہے کہ ان میں کم یا بہت جھوٹی ہوں) جن کی اصل نہ ہو، حالانکہ ثقہ لوگوں کی صحیح حدیثیں، جن کی روایت پر قناعت ہو سکتی ہے، کیا کم ہیں کہ بے اعتبار اور جن کی روایت پر قناعت نہیں ہو سکتی ان کی روایتوں کی احتیاج پڑے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B3]
ترقیم فوادعبدالباقی:


اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B4
وَلَا أَحْسِبُ كَثِيرًا مِمَّنْ يُعَرِّجُ مِنَ النَّاسِ، عَلَى مَا وَصَفْنَا مِنْ هَذِهِ الأَحَادِيثِ الضِّعَافِ، وَالأَسَانِيدِ الْمَجْهُولَةِ، وَيَعْتَدُّ بِرِوَايَتِهَا بَعْدَ مَعْرِفَتِهِ بِمَا فِيهَا مِنَ التَّوَهُّنِ، وَالضَّعْفِ، إِلَّا أَنَّ الَّذِي يَحْمِلُهُ عَلَى رِوَايَتِهَا، وَالِاعْتِدَادِ بِهَا إِرَادَةُ التَّكَثُّرِ بِذَلِكَ عِنْدَ الْعَوَامِّ، وَلِأَنْ يُقَالَ: مَا أَكْثَرَ مَا جَمَعَ فُلَانٌ مِنَ الْحَدِيثِ، وَأَلَّفَ مِنَ الْعَدَدِ، وَمَنْ ذَهَبَ فِي الْعِلْمِ هَذَا الْمَذْهَبَ، وَسَلَكَ هَذَا الطَّرِيقَ، فَلَا نَصِيبَ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ بِأَنْ يُسَمَّى جَاهِلًا أَوْلَى مَنْ أَنْ يُنْسَبَ إِلَى عِلْمٍ
اور میں سمجھتا ہوں کہ جن لوگوں نے اس قسم کی ضعیف حدیثیں اور مجہول سندیں نقل کی ہیں اور ان میں مصروف ہیں اور وہ جانتے ہیں ان کے ضعف کو، تو ان کی غرض یہ ہے کہ عوام کے نزدیک اپنا کثرتِ علم ثابت کریں اور اس لیے کہ لوگ کہیں: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے! فلاں شخص نے کتنی زیادہ حدیثیں جمع کی ہیں۔ اور جس شخص کی یہ چال ہے اور اس کا یہ طریقہ ہے، اس کا علم، حدیث میں کچھ نہیں اور وہ جاہل کہلانے کا زیادہ سزاوار ہے عالم کہلانے سے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B4]
ترقیم فوادعبدالباقی:


اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B5
وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ مُنْتَحِلِي الْحَدِيثِ مِنْ أَهْلِ عَصْرِنَا فِي تَصْحِيحِ الأَسَانِيدِ، وَتَسْقِيمِهَا، بِقَوْلٍ: لَوْ ضَرَبْنَا عَنْ حِكَايَتِهِ، وَذِكْرِ فَسَادِهِ صَفْحًا، لَكَانَ رَأْيًا مَتِينًا، وَمَذْهَبًا صَحِيحًا، إِذْ الْإِعْرَاضُ عَنِ الْقَوْلِ الْمُطَّرَحِ أَحْرَى، لِإِمَاتَتِهِ، وَإِخْمَالِ ذِكْرِ قَائِلِهِ، وَأَجْدَرُ أَنْ لَا يَكُونَ ذَلِكَ تَنْبِيهًا لِلْجُهَّالِ عَلَيْهِ، غَيْرَ أَنَّا لَمَّا تَخَوَّفْنَا مِنْ شُرُورِ الْعَوَاقِبِ وَاغْتِرَارِ الْجَهَلَةِ، بِمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ وَإِسْرَاعِهِمْ إِلَى اعْتِقَادِ خَطَإِ الْمُخْطِئِينَ، وَالأَقْوَالِ السَّاقِطَةِ عِنْدَ الْعُلَمَاءِ رَأَيْنَا الْكَشْفَ عَنْ فَسَادِ قَوْلِهِ، وَرَدَّ مَقَالَتِهِ بِقَدْرِ مَا يَلِيقُ بِهَا مِنَ الرَّدِّ، أَجْدَى عَلَى الأَنَامِ، وَأَحْمَدَ لِلْعَاقِبَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ،
امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں بعض ایسے لوگوں نے، جنہوں نے جھوٹ موٹ اپنے تئیں محدث قرار دیا ہے، اسناد کی صحت اور سقم میں ایک قول بیان کیا ہے۔ اگر ہم بالکل اس کو نقل نہ کریں اور اس کا ابطال نہ لکھیں تو عمدہ تجویز ہوگی اور ٹھیک راستہ ہوگا، اس لیے کہ غلط بات کی طرف التفات نہ کرنا اسے مٹانے کے لیے اور اس کے کہنے والے کا نام کھودنے کے لیے بہتر اور جاہلوں کے لیے مناسب ہے تاکہ ان کو اس غلط بات کی خبر بھی نہ ہو؛ مگر اس وجہ سے کہ ہم انجام کی برائی سے ڈرتے ہیں اور یہ بات دیکھتے ہیں کہ جاہل نئی بات پر فریفتہ ہو جاتے ہیں اور غلط بات پر جلد اعتقاد کر لیتے ہیں جو علما کے نزدیک ساقط الاعتبار ہوتی ہے، ہم نے اس قول کی غلطی بیان کرنا اور اس کو رد کرنا، اس کا فساد و بطلان اور خرابیاں ذکر کرنا لوگوں کے لیے بہتر اور فائدہ مند خیال کیا، اور اس کا انجام بھی نیک ہوگا اگر اللہ «عَزَّ وَ جَلَّ» عزت اور بزرگی والا چاہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B5]
ترقیم فوادعبدالباقی:


اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B6
وَزَعَمَ الْقَائِلُ الَّذِي افْتَتَحْنَا الْكَلَامَ عَلَى الْحِكَايَةِ، عَنْ قَوْلِهِ وَالإِخْبَارِ عَنْ سُوءِ رَوِيَّتِهِ، أَنَّ كُلَّ إِسْنَادٍ لِحَدِيثٍ فِيهِ فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ، وَقَدْ أَحَاطَ الْعِلْمُ بِأَنَّهُمَا قَدْ كَانَا فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ وَجَائِزٌ، أَنْ يَكُونَ الْحَدِيثُ الَّذِي رَوَى الرَّاوِي عَمَّنْ رَوَى عَنْهُ، قَدْ سَمِعَهُ مِنْهُ وَشَافَهَهُ بِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَعْلَمُ لَهُ مِنْهُ سَمَاعًا، وَلَمْ نَجِدْ فِي شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ، أَنَّهُمَا الْتَقَيَا قَطُّ أَوْ تَشَافَهَا بِحَدِيثٍ، أَنَّ الْحُجَّةَ لَا تَقُومُ عِنْدَهُ بِكُلِّ خَبَرٍ جَاءَ هَذَا الْمَجِيءَ، حَتَّى يَكُونَ عِنْدَهُ الْعِلْمُ بِأَنَّهُمَا قَدِ اجْتَمَعَا مِنْ دَهْرِهِمَا مَرَّةً، فَصَاعِدًا، أَوْ تَشَافَهَا بِالْحَدِيثِ بَيْنَهُمَا، أَوْ يَرِدَ خَبَرٌ فِيهِ بَيَانُ اجْتِمَاعِهِمَا وَتَلَاقِيهِمَا مَرَّةً مِنْ دَهْرِهِمَا فَمَا فَوْقَهَا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ عِلْمُ ذَلِكَ، وَلَمْ تَأْتِ رِوَايَةٌ صَحِيحَةٌ تُخْبِرُ، أَنَّ هَذَا الرَّاوِيَ، عَنْ صَاحِبِهِ، قَدْ لَقِيَهُ مَرَّةً، وَسَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ فِي نَقْلِهِ الْخَبَرَ، عَمَّنْ رَوَى عَنْهُ عِلْمُ ذَلِكَ، وَالأَمْرُ كَمَا وَصَفْنَا حُجَّةٌ، وَكَانَ الْخَبَرُ عِنْدَهُ مَوْقُوفًا، حَتَّى يَرِدَ عَلَيْهِ سَمَاعُهُ مِنْهُ لِشَيْءٍ مِنَ الْحَدِيثِ قَلَّ أَوْ كَثُرَ فِي رِوَايَةٍ مِثْلِ مَا وَرَدَ
اور اس شخص نے، جس کے قول سے ہم نے گفتگو شروع کی اور جس کے فکر اور خیال کو ہم نے باطل کہا، یوں گمان کیا ہے کہ جو اسناد ایسی ہو جس میں «فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ» ہو اور یہ بات معلوم ہو گئی کہ وہ دونوں ایک ہی زمانے میں تھے اور ممکن ہو کہ یہ حدیث ایک نے دوسرے سے سنی ہو اور وہ اس سے ملا بھی ہو، مگر ہمیں یہ معلوم نہیں ہوا کہ اس نے اس سے سنا ہے، نہ ہم نے کسی روایت میں اس بات کی تصریح پائی کہ وہ دونوں ملے تھے اور ان میں (منہ در منہ) بات چیت ہوئی تھی، تو ایسی اسناد سے جو حدیث روایت کی جائے وہ حجت نہیں ہے جب تک یہ بات معلوم نہ ہو کہ کم از کم وہ دونوں اپنی عمر میں ایک بار ملے تھے اور ایک نے دوسرے سے بات چیت کی تھی یا ایسی کوئی حدیث روایت کی جائے جس میں اس امر کا بیان ہو کہ ان دونوں کی ملاقات ایک یا زیادہ بار ہوئی تھی۔ اگر اس بات کا علم نہ ہو اور نہ کوئی حدیث ایسی روایت کی جائے جس سے ملاقات اور سماع کا ثبوت ہو، تو ایسی حدیث نقل کرنا جس سے ملاقات کا علم نہ ہو ایسی حالت میں حجت نہیں ہے اور وہ حدیث موقوف رہے گی، یہاں تک کہ ان دونوں کا سماع، تھوڑا یا بہت، کسی دوسری روایت سے معلوم ہو جائے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B6]
ترقیم فوادعبدالباقی:


اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B7
وَهَذَا الْقَوْلُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فِي الطَّعْنِ فِي الأَسَانِيدِ قَوْلٌ مُخْتَرَعٌ، مُسْتَحْدَثٌ، غَيْرُ مَسْبُوقٍ صَاحِبُهُ إِلَيْهِ، وَلَا مُسَاعِدَ لَهُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَيْهِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْقَوْلَ الشَّائِعَ الْمُتَّفَقَ عَلَيْهِ بَيْنَ أَهْلِ الْعِلْمِ، بِالأَخْبَارِ، وَالرِّوَايَاتِ قَدِيمًا وَحَدِيثًا، أَنَّ كُلَّ رَجُلٍ ثِقَةٍ، رَوَى عَنْ مِثْلِهِ حَدِيثًا وَجَائِزٌ، مُمْكِنٌ لَهُ لِقَاؤُهُ وَالسَّمَاعُ مِنْهُ، لِكَوْنِهِمَا جَمِيعًا كَانَا فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ، وَإِنْ لَمْ يَأْتِ فِي خَبَرٍ قَطُّ، أَنَّهُمَا اجْتَمَعَا وَلَا تَشَافَهَا بِكَلَامٍ، فَالرِّوَايَةُ ثَابِتَةٌ وَالْحُجَّةُ بِهَا لَازِمَةٌ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ هُنَاكَ دَلَالَةٌ بَيِّنَةٌ، أَنَّ هَذَا الرَّاوِيَ لَمْ يَلْقَ مَنْ رَوَى عَنْهُ، أَوْ لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ شَيْئًا، فَأَمَّا وَالأَمْرُ مُبْهَمٌ عَلَى الإِمْكَانِ الَّذِي فَسَّرْنَا، فَالرِّوَايَةُ عَلَى السَّمَاعِ أَبَدًا، حَتَّى تَكُونَ الدَّلَالَةُ الَّتِي بَيَّنَّا،
اور اسناد کے باب میں یہ قول، «رَحِمَكَ اللّٰهُ» اللہ تجھ پر رحم کرے، ایک نیا ایجاد کیا ہوا ہے جو پہلے کسی نے نہیں کہا اور نہ ہی حدیث کے عالموں نے اس کی موافقت کی ہے؛ اس لیے کہ وہ مشہور مذہب جس پر اہل علم کے اگلوں اور پچھلوں کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ جب کوئی ثقہ شخص کسی ثقہ شخص سے ایک حدیث روایت کرے اور ان دونوں کی ملاقات جائز اور ممکن ہو (باعتبارِ سن اور عمر کے) اس وجہ سے کہ وہ دونوں ایک ہی زمانے میں موجود تھے، اگرچہ کسی حدیث میں اس بات کی تصریح نہ ہو کہ وہ دونوں ملے تھے یا ان میں روبرو بات چیت ہوئی تھی، تو وہ حدیث حجت ہے اور وہ روایت ثابت ہے۔ البتہ اگر اس امر کی وہاں کوئی کھلی دلیل ہو کہ درحقیقت یہ راوی دوسرے راوی سے نہیں ملا یا اس سے کچھ نہیں سنا، تو وہ حدیث حجت نہ ہوگی؛ لیکن جب تک یہ امر مبہم رہے (یعنی گول مول اور کوئی دلیل نہ سننے اور نہ ملنے کی نہ ہو) تو صرف ملاقات کا ممکن ہونا کافی ہوگا اور وہ روایت سماع پر محمول کی جائے گی۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B7]
ترقیم فوادعبدالباقی:


اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B8
فَيُقَالُ لِمُخْتَرِعِ هَذَا الْقَوْلِ، الَّذِي وَصَفْنَا مَقَالَتَهُ، أَوْ لِلذَّابِّ عَنْهُ، قَدْ أَعْطَيْتَ فِي جُمْلَةِ قَوْلِكَ، أَنَّ خَبَرَ الْوَاحِدِ الثِّقَةِ عَنِ الْوَاحِدِ، الثِّقَةِ حُجَّةٌ يَلْزَمُ بِهِ الْعَمَلُ، ثُمَّ أَدْخَلْتَ فِيهِ الشَّرْطَ بَعْدُ، فَقُلْتَ: حَتَّى نَعْلَمَ أَنَّهُمَا قَدْ كَانَا الْتَقَيَا مَرَّةً فَصَاعِدًا أَوْ سَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا، فَهَلْ تَجِدُ هَذَا الشَّرْطَ الَّذِي اشْتَرَطْتَهُ عَنْ أَحَدٍ يَلْزَمُ قَوْلُهُ وَإِلَّا فَهَلُمَّ دَلِيلًا عَلَى مَا زَعَمْتَ،
پھر جس شخص نے یہ قول نکالا ہے یا وہ اس کی حمایت کرتا ہے اس سے یوں گفتگو کریں گے کہ خود تیرے ہی سارے کلام سے یہ بات نکلی کہ ایک ثقہ شخص کی روایت دوسرے ثقہ شخص سے حجت ہے جس پر عمل کرنا واجب ہے۔ پھر تو نے خود ایک شرط بعد میں بڑھا دی کہ جب یہ بات معلوم ہو جائے کہ وہ دونوں اپنی عمر میں ایک بار ملے تھے یا اس سے زیادہ اور ایک نے دوسرے سے سنا تھا۔ اب اس شرط کا ثبوت کسی ایسے شخص کے قول سے پانا ہے جس کا ماننا ضروری ہو۔ اگر ایسا قول نہیں ہے تو پھر اپنے دعوے پر کوئی اور دلیل لانا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B8]
ترقیم فوادعبدالباقی:


اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B9
فَإِنِ ادَّعَى قَوْلَ أَحَدٍ مِنْ عُلَمَاءِ السَّلَفِ، بِمَا زَعَمَ مِنْ إِدْخَالِ الشَّرِيطَةِ فِي تَثْبِيتِ الْخَبَرِ طُولِبَ بِهِ، وَلَنْ يَجِدَ هُوَ وَلَا غَيْرُهُ إِلَى إِيجَادِهِ سَبِيلًا، وَإِنْ هُوَ ادَّعَى فِيمَا زَعَمَ دَلِيلًا يَحْتَجُّ بِهِ، قِيلَ لَهُ: وَمَا ذَاكَ الدَّلِيلُ؟
اگر وہ یہ کہے کہ اس باب میں سلف کا قول ہے، یعنی اس شرط کے ثبوت کے لیے، تو کہا جائے گا: کہاں ہے؟ «لَا» نہیں، پھر نہ اس کو کوئی قول ملے گا اور نہ کسی اور کو، اور اگر وہ اور کوئی دلیل قائم کرنا چاہے تو پوچھیں گے: وہ دلیل کیا ہے؟ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B9]
ترقیم فوادعبدالباقی:


اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B10
فَإِنْ، قَالَ: قُلْتُهُ لِأَنِّي وَجَدْتُ رُوَاةَ الأَخْبَارِ قَدِيمًا وَحَدِيثًا، يَرْوِي أَحَدُهُمْ عَنِ الآخَرِ الْحَدِيثَ، وَلَمَّا يُعَايِنْهُ، وَلَا سَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا قَطُّ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمُ اسْتَجَازُوا رِوَايَةَ الْحَدِيثِ بَيْنَهُمْ هَكَذَا عَلَى الإِرْسَالِ مِنْ غَيْرِ سَمَاعٍ، وَالْمُرْسَلُ مِنَ الرِّوَايَاتِ فِي أَصْلِ قَوْلِنَا، وَقَوْلِ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالأخْبَارِ لَيْسَ بِحُجَّةٍ احْتَجْتُ، لِمَا وَصَفْتُ مِنَ الْعِلَّةِ إِلَى الْبَحْثِ عَنْ سَمَاعِ رَاوِي كُلِّ خَبَرٍ، عَنْ رَاوِيهِ، فَإِذَا أَنَا، هَجَمْتُ عَلَى سَمَاعِهِ مِنْهُ لِأَدْنَى شَيْءٍ ثَبَتَ عَنْهُ عِنْدِي بِذَلِكَ جَمِيعُ مَا يَرْوِي عَنْهُ بَعْدُ، فَإِنْ عَزَبَ عَنِّي مَعْرِفَةُ ذَلِك أَوْقَفْتُ الْخَبَرَ، وَلَمْ يَكُنْ عِنْدِي مَوْضِعَ حُجَّةٍ لِإِمْكَانِ الإِرْسَالِ فِيهِ،
پھر اگر وہ شخص یہ کہے: میں نے یہ مذہب اس لیے اختیار کیا ہے کہ میں نے حدیث کے تمام اگلے اور پچھلے راویوں کو دیکھا کہ ایک دوسرے سے حدیث روایت کرتے ہیں حالانکہ اس ایک نے دوسرے کو دیکھا ہے نہ اس سے سنا، تو جب میں نے دیکھا کہ انہوں نے جائز رکھا ہے مرسل کو روایت کرنا بغیر سماع کے اور مرسل روایت ہمارے اور علم والوں کے نزدیک حجت نہیں ہے، تو احتیاج پڑی مجھ کو راوی کے سماع دیکھنے کی جس کو وہ دوسرے سے روایت کرتا ہے۔ پھر اگر مجھے کہیں ذرا بھی ثابت ہو گیا کہ اس نے سنا ہے دوسرے راوی سے تو اس کی تمام روایتیں اس سے درست ہو گئیں، اگر بالکل مجھے معلوم نہ ہوا کہ اس نے اس سے سنا ہے تو میں روایت کو موقوف رکھوں گا اور میرے نزدیک وہ روایت حجت نہ ہوگی اس لیے کہ اس کا مرسل ہونا ممکن ہے (دلیل ہوئی مخالف کی۔ اب اس کا جواب آگے مذکور ہوتا ہے)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B10]
ترقیم فوادعبدالباقی:


اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B11
فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنْ كَانَتِ الْعِلَّةُ فِي تَضْعِيفِكَ الْخَبَرَ وَتَرْكِكَ الِاحْتِجَاجَ بِهِ، إِمْكَانَ الْإِرْسَالِ فِيهِ، لَزِمَكَ أَنْ لَا تُثْبِتَ إِسْنَادًا مُعَنْعَنًا، حَتَّى تَرَى فِيهِ السَّمَاعَ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ. وَذَلِكَ أَنَّ الْحَدِيثَ الْوَارِدَ عَلَيْنَا بِإِسْنَادِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عائشة َ، فَبِيَقِينٍ نَعْلَمُ، أَنَّ هِشَامًا قَدْ سَمِعَ مِنْ أَبِيهِ، وَأَنَّ أَبَاهُ قَدْ سَمِعَ مِنْ عائشة كَمَا نَعْلَمُ، أَنَّ عائشة قَدْ سَمِعَتْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ يَجُوزُ إِذَا لَمْ يَقُلْ هِشَامٌ فِي رِوَايَةٍ يَرْوِيهَا، عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ، أَوْ أَخْبَرَنِي أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَبِيهِ فِي تِلْكَ الرِّوَايَةِ إِنْسَانٌ آخَرُ أَخْبَرَهُ بِهَا، عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ يَسْمَعْهَا هُوَ مِنْ أَبِيهِ، لَمَّا أَحَبَّ أَنْ يَرْوِيَهَا مُرْسَلًا وَلَا يُسْنِدَهَا إِلَى مَنْ سَمِعَهَا مِنْهُ، وَكَمَا يُمْكِنُ ذَلِكَ فِي هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ أَيْضًا مُمْكِنٌ فِي أَبِيهِ، عَنْ عائشة، وَكَذَلِكَ كُلُّ إِسْنَادٍ لِحَدِيثٍ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ سَمَاعِ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ، وَإِنْ كَانَ قَدْ عُرِفَ فِي الْجُمْلَةِ، أَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ قَدْ سَمِعَ مِنْ صَاحِبِهِ سَمَاعًا كَثِيرًا، فَجَائِزٌ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ أَنْ يَنْزِلَ فِي بَعْضِ الرِّوَايَةِ، فَيَسْمَعَ مِنْ غَيْرِهِ عَنْهُ بَعْضَ أَحَادِيثِهِ، ثُمَّ يُرْسِلَهُ عَنْهُ أَحْيَانًا، وَلَا يُسَمِّيَ مَنْ سَمِعَ مِنْهُ، وَيَنْشَطَ أَحْيَانًا، فَيُسَمِّيَ الرَّجُلَ الَّذِي حَمَلَ عَنْهُ الْحَدِيثَ وَيَتْرُكَ الإِرْسَالَ،
تو اس سے کہا جائے گا کہ اگر تیرے نزدیک حدیث کو ضعیف قرار دینے کی اور اس کو حجت نہ سمجھنے کی علت صرف ارسال کا ممکن ہونا ہے (جیسے اس نے خود کہا کہ جب سماع ثابت نہ ہو تو وہ روایت حجت نہ ہو گی کیونکہ ممکن ہے اس کا مرسل ہونا) تو لازم آتا ہے کہ تو کسی اسنادِ معنعن کو نہ مانے جب تک اول سے لے کر آخر تک اس میں سماع کی تصریح نہ ہو (یعنی ہر راوی دوسرے سے یوں روایت کرے کہ میں نے اس سے سنا)، مثلاً جو حدیث ہم کو پہنچی ہشام کی روایت سے، انہوں نے اپنے باپ عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے، جیسے ہم اس بات کو بالیقین جانتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، باوجود اس کے احتمال ہے کہ اگر کسی روایت میں ہشام یوں نہ کہیں کہ میں نے عروہ سے سنا ہے یا عروہ نے مجھے خبر دی (بلکہ صرف «عَنْ عُرْوَةَ» کہیں) تو ہشام اور عروہ کے بیچ میں ایک اور شخص ہو جس نے عروہ سے سن کر ہشام کو خبر دی ہو اور خود ہشام نے اپنے باپ سے اس روایت کو نہ سنا ہو، لیکن ہشام نے اس کو مرسلاً روایت کرنا چاہا اور جس کے ذریعے سے سنا اس کا ذکر مناسب نہ جانا۔ اور جیسے یہ احتمال ہشام اور عروہ کے بیچ میں ہے، ویسے ہی عروہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیچ میں ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ہر اس اسناد میں جس میں سماع کی تصریح نہیں، اگرچہ یہ بات معلوم ہو جائے کہ ایک نے دوسرے سے بہت سی روایتیں سنی ہیں، مگر یہ ہو سکتا ہے کہ بعض روایتیں اس سے نہ سنی ہوں بلکہ کسی اور کے ذریعے سے سن کر اس کو مرسلاً نقل کیا ہو، پر جس کے ذریعے سے سنا اس کا نام نہ لیا اور کبھی اس ابہام کو رفع کرنے کے لیے اس کا نام بھی لے دیا اور ارسال کو ترک کیا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B11]
ترقیم فوادعبدالباقی:


اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B12
وَمَا قُلْنَا: مِنْ هَذَا مَوْجُودٌ فِي الْحَدِيثِ، مُسْتَفِيضٌ مِنْ فِعْلِ ثِقَاتِ الْمُحَدِّثِينَ، وَأَئِمَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ؟ وَسَنَذْكُرُ مِنْ رِوَايَاتِهِمْ عَلَى الْجِهَةِ الَّتِي ذَكَرْنَا، عَدَدًا يُسْتَدَلُّ بِهَا عَلَى أَكْثَرَ مِنْهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، فَمِنْ ذَلِكَ.أَنَّ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيَّ وَابْنَ الْمُبَارَكِ وَوَكِيعًا وَابْنَ نُمَيْرٍ وَجَمَاعَةً غَيْرَهُمْ رَوَوْا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِحِلِّهِ وَلِحِرْمِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِد، فَرَوَى هَذِهِ الرِّوَايَةَ بِعَيْنِهَا، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَدَاوُدُ الْعَطَّارُ وَحُمَيْدُ بْنُ الأَسْوَدِ وَوُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ احتمال جو ہم نے بیان کیا (صرف فرضی اور خیالی نہیں ہے) بلکہ موجود ہے حدیث میں اور جاری ہے بہت سے ثقہ محدثین کی روایتوں میں۔ ہم تھوڑی سی ایسی روایتیں بیان کرتے ہیں، اللہ چاہے تو ان سے دلیل پوری ہوگی بہت سی روایتوں پر۔ پہلی روایت وہ ہے جو ایوب سختیانی رحمہ اللہ اور ابن مبارک رحمہ اللہ اور وکیع رحمہ اللہ اور ابن نمیر رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے سوائے ان کے ہشام سے نقل کی، انہوں نے اپنے باپ عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ میں خوشبو لگاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کھولتے وقت اور احرام باندھتے وقت جو سب سے عمدہ مجھ کو ملتی۔ اسی روایت کو بعینہ لیث بن سعد رحمہ اللہ اور داؤد عطار رحمہ اللہ اور حمید بن الاسود رحمہ اللہ اور وہیب بن خالد رحمہ اللہ اور ابو اسامہ رحمہ اللہ نے ہشام سے روایت کیا۔ ہشام نے کہا: خبر دی مجھ کو عثمان بن عروہ نے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B12]
ترقیم فوادعبدالباقی:


اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B13
وَرَوَى هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا اعْتَكَفَ، يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ، فَأُرَجِّلُهُ، وَأَنَا حَائِضٌ، فَرَوَاهَا بِعَيْنِهَا مَالِكُ بْن أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
دوسری روایت ہشام کی ہے، اپنے باپ عروہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو اپنا سر میری طرف جھکا دیتے، میں آپ کے سر میں کنگھی کر دیتی حالانکہ میں حائضہ ہوتی۔ اسی روایت کو بعینہٖ امام مالک رحمہ اللہ نے زہری رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عمرہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B13]
ترقیم فوادعبدالباقی:


اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B14
وَرَوَى الزُّهْرِيُّ وَصَالِحُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، فَقَالَ يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ فِي الْقُبْلَةِ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ"،
تیسری روایت وہ ہے جو زہری رحمہ اللہ اور صالح بن ابی حسان رحمہ اللہ نے ابو سلمہ رحمہ اللہ سے نقل کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ دار ہوتے تھے۔ یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ نے اس بوسے کی حدیث کو یوں روایت کیا: مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں عروہ رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بوسہ لیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ دار ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B14]
ترقیم فوادعبدالباقی:


اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B15
وَرَوَى ابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَار ٍ، عَنْ جَابِر، قَالَ:" أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لُحُومَ الْخَيْلِ، وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُر" ِ، فَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا النَّحْوُ فِي الرِّوَايَاتِ كَثِيرٌ، يَكْثُرُ تَعْدَادُهُ، وَفِيمَا ذَكَرْنَا مِنْهَا، كِفَايَةٌ لِذَوِي الْفَهْمِ،
چوتھی روایت وہ ہے جو سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ وغیرہ نے عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے کی، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو کھلایا گھوڑوں کا گوشت اور منع کیا پالتو گدھوں کے گوشت سے۔ اسی حدیث کو روایت کیا حماد بن زید رحمہ اللہ نے عمرو سے، انہوں نے محمد بن علی رحمہ اللہ سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے (تو حماد بن زید نے عمرو بن دینار اور جابر رضی اللہ عنہ کے بیچ میں ایک واسطہ اور نقل کیا محمد بن علی رحمہ اللہ کا جو پہلی اسناد میں نہیں) اور اسی قسم کی حدیثیں بہت ہیں جن کا شمار کثیر ہے اور جتنی ہم نے بیان کیں وہ سمجھنے والوں کے لیے کافی ہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B15]
ترقیم فوادعبدالباقی:


اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B16
فَإِذَا كَانَتِ الْعِلَّةُ عِنْدَ مَنْ وَصَفْنَا، قَوْلَهُ مِنْ قَبْلُ فِي فَسَادِ الْحَدِيثِ وَتَوْهِينِهِ، إِذَا لَمْ يُعْلَمْ أَنَّ الرَّاوِيَ قَدْ سَمِعَ مِمَّنْ رَوَى عَنْهُ شَيْئًا إِمْكَانَ الإِرْسَالَ فِيهِ، لَزِمَهُ تَرْكُ الِاحْتِجَاجِ فِي قِيَادِ قَوْلِهِ بِرِوَايَةِ مَنْ يُعْلَمُ، أَنَّهُ قَدْ سَمِعَ مِمَّنْ رَوَى عَنْهُ، إِلَّا فِي نَفْسِ الْخَبَرِ الَّذِي فِيهِ ذِكْرُ السَّمَاعِ لِمَا بَيَّنَّا مِنْ قَبْلُ، عَنِ الأَئِمَّةِ الَّذِينَ نَقَلُوا الأَخْبَارَ، أَنَّهُمْ كَانَتْ لَهُمْ تَارَاتٌ يُرْسِلُونَ فِيهَا الْحَدِيثَ إِرْسَالًا، وَلَا يَذْكُرُونَ مَنْ سَمِعُوهُ مِنْهُ، وَتَارَاتٌ يَنْشَطُونَ فِيهَا فَيُسْنِدُونَ الْخَبَرَ عَلَى هَيْئَةِ مَا سَمِعُوا، فَيُخْبِرُونَ بِالنُّزُولِ فِيهِ إِنْ نَزَلُوا، وَبِالصُّعُودِ إِنْ صَعِدُوا، كَمَا شَرَحْنَا ذَلِكَ عَنْهُمْ،
پھر جب اس شخص کے نزدیک، جس کا قول ہم نے اوپر بیان کیا، حدیث کی خرابی اور توہین کی علت یہ ہوئی کہ ایک راوی کا سماع جب دوسرے راوی سے معلوم نہ ہو تو ارسال ممکن ہے، تو اس کے قول کے بموجب اس کو لازم آتا ہے ان روایتوں کے ساتھ حجت کا ترک کرنا جن کے راوی کا سماع دوسرے سے معلوم ہو چکا ہے (لیکن خاص اس روایت میں سماع کی تصریح نہیں)، البتہ اس شخص کے نزدیک صرف وہی روایت حجت ہو گی جس میں سماع کی تصریح ہے؛ کیونکہ اوپر ہم بیان کر چکے ہیں کہ حدیث روایت کرنے والے اماموں کا حال مختلف ہوتا ہے، کبھی تو وہ ارسال کرتے اور جس سے انہوں نے سنا ہو اس کا نام نہیں لیتے اور کبھی خوش ہوتے اور حدیث کی پوری اسناد جس طرح سے انہوں نے سنا ہے، بیان کر دیتے، پھر اگر ان کو اتار ہوتا تو اتار بتلاتے اور جو چڑھاؤ ہوتا تو چڑھاؤ بتلاتے، جیسا کہ ہم اوپر صاف بیان کر چکے ہیں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B16]
ترقیم فوادعبدالباقی:


اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B17
وَمَا عَلِمْنَا أَحَدًا مِنْ أَئِمَّةِ السَّلَفِ، مِمَّنْ يَسْتَعْمِلُ الأَخْبَارَ، وَيَتَفَقَّدُ صِحَّةَ الأَسَانِيدِ وَسَقَمَهَا، مِثْلَ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ وَابْنِ عَوْنٍ وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَشُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ، فَتَّشُوا عَنْ مَوْضِعِ السَّمَاعِ فِي الأَسَانِيدِ، كَمَا ادَّعَاهُ الَّذِي وَصَفْنَا قَوْلَهُ مِنْ قَبْلُ، وَإِنَّمَا كَانَ تَفَقُّدُ مَنْ تَفَقَّدَ مِنْهُمْ، سَمَاعَ رُوَاةِ الْحَدِيثِ مِمَّنْ رَوَى عَنْهُمْ، إِذَا كَانَ الرَّاوِي مِمَّنْ عُرِفَ بِالتَّدْلِيسِ فِي الْحَدِيثِ وَشُهِرَ بِهِ، فَحِينَئِذٍ يَبْحَثُونَ عَنْ سَمَاعِهِ فِي رِوَايَتِهِ، وَيَتَفَقَّدُونَ
اور ہم نے سلف کے ائمہ میں سے جو حدیث کو استعمال کرتے تھے اور اسناد کی صحت اور سقم کو دریافت کرتے تھے، جیسے ایوب سختیانی رحمہ اللہ، ابن عون رحمہ اللہ، مالک بن انس رحمہ اللہ، شعبہ بن حجاج رحمہ اللہ، یحییٰ بن سعید قطان رحمہ اللہ اور عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ اور جو ان کے بعد ہیں، ان میں سے کسی کو نہیں سنا کہ وہ اسناد میں سماع کی تحقیق کرتے ہوں جیسے یہ شخص دعویٰ کرتا ہے جس کا قول اوپر ہم نے بیان کیا۔ البتہ جنہوں نے ان میں سے راویوں کے سماع کی تحقیق کی ہے، تو وہ ان راویوں کی ہے جو تدلیس میں مشہور ہیں۔ اس وقت بے شک وہ ایسے راویوں کے سماع سے بحث کرتے ہیں اور اس کی دریافت کرتے ہیں تاکہ ان سے تدلیس کا مرض دور ہو جائے، لیکن سماع کی تحقیق اس راوی میں جو مدلس نہ ہو، جس طرح اس شخص نے بیان کیا، تو یہ ہم نے کسی امام سے نہیں سنا، نہ ان ائمہ میں سے جن کا ہم نے ذکر کیا اور نہ ان میں سے جن کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B17]
ترقیم فوادعبدالباقی:


اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B18
ذَلِكَ مِنْهُ كَيْ تَنْزَاحَ عَنْهُمْ عِلَّةُ التَّدْلِيسِ، فَمَنِ ابْتَغَى ذَلِكَ مِنْ غَيْرِ مُدَلِّسٍ عَلَى الْوَجْهِ الَّذِي زَعَمَ مَنْ حَكَيْنَا قَوْلَهُ، فَمَا سَمِعْنَا ذَلِكَ عَنْ أَحَدٍ مِمَّنْ سَمَّيْنَا، وَلَمْ نُسَمِّ مِنِ الأَئِمَّةِ. فَمِنْ ذَلِكَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الأَنْصَارِيَّ، وَقَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَوَى، عَنْ حُذَيْفَةَ وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، وَعَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدِيثًا يُسْنِدُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْهُمَا ذِكْرُ السَّمَاعِ مِنْهُمَا، وَلَا حَفِظْنَا فِي شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ شَافَهَ حُذَيْفَةَ وَأَبَا مَسْعُودٍ بِحَدِيثٍ قَطُّ، وَلَا وَجَدْنَا ذِكْرَ رُؤْيَتِهِ إِيَّاهُمَا فِي رِوَايَةٍ بِعَيْنِهَا، وَلَمْ نَسْمَعْ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِمَّنْ مَضَى وَلَا مِمَّنْ أَدْرَكْنَا، أَنَّهُ طَعَنَ فِي هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ اللَّذَيْنِ رَوَاهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُذَيْفَةَ وَأَبِي مَسْعُودٍ، بِضَعْفٍ فِيهِمَا، بَلْ هُمَا وَمَا أَشْبَهَهُمَا عِنْدَ مَنْ لَاقَيْنَا مَنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ مِنْ صِحَاحِ الأَسَانِيدِ، وَقَوِيِّهَا يَرَوْنَ اسْتِعْمَالَ مَا نُقِلَ بِهَا، وَالِاحْتِجَاجَ بِمَا أَتَتْ مِنْ سُنَنٍ، وَآثَارٍ وَهِيَ فِي زَعْمِ مَنْ حَكَيْنَا قَوْلَهُ مِنْ قَبْلُ وَاهِيَةٌ مُهْمَلَةٌ، حَتَّى يُصِيبَ سَمَاعَ الرَّاوِي عَمَّنْ رَوَى،
اس قسم کی روایات میں سے عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے (جو خود صحابی ہیں)، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور حذیفہ بن الیمان اور ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے، ہر ایک سے ایک ایک حدیث کو جس کو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک مسند کیا ہے، مگر ان روایتوں میں اس بات کی تصریح نہیں کہ عبداللہ بن یزید نے ان دونوں سے سنا (یعنی حذیفہ اور ابو مسعود سے سنا) اور نہ کسی روایت میں ہم نے یہ بات پائی کہ عبداللہ، حذیفہ اور ابو مسعود رضی اللہ عنہم سے روبرو ملے اور ان سے کوئی حدیث سنی اور نہ کہیں ہم نے پایا کہ عبداللہ نے ان دونوں کو دیکھا کسی خالص روایت میں (مگر چونکہ عبداللہ خود صحابی تھے) اور ان کا سن اتنا تھا کہ ملاقات ان کی حذیفہ اور ابو مسعود رضی اللہ عنہما سے ممکن ہے، اس لیے روایت «عَنْ» کے ساتھ محمول ہے اتصال پر، تو صرف امکانِ ملاقات کافی ہوا جیسے امام مسلم رحمہ اللہ کا مذہب ہے اور کسی علم والے سے نہیں سنا گیا، نہ اگلے لوگوں سے، نہ ان سے جن سے ہم ملے ہیں کہ انہوں نے طعن کیا ہو ان دونوں حدیثوں میں جن کو عبداللہ نے حذیفہ اور ابو مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ یہ ضعیف ہیں، بلکہ یہ حدیثیں اور جو ان کے مشابہ ہیں صحیح حدیثوں میں سے ہیں اور قوی ہیں ان اماموں کے نزدیک جن سے ہم ملے ہیں اور وہ ان کا استعمال جائز رکھتے ہیں اور ان سے حجت لیتے ہیں، حالانکہ یہی حدیثیں اس شخص کے نزدیک جس کا قول اوپر ہم نے بیان کیا (جو ثبوتِ ملاقات شرط کرتا ہے) واہی ہیں اور بے کار ہیں جب تک سماع عبداللہ کا حذیفہ اور ابو مسعود رضی اللہ عنہما سے متحقق نہ ہو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B18]
ترقیم فوادعبدالباقی:


اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B19
وَلَوْ ذَهَبْنَا نُعَدِّدُ الأَخْبَارَ الصِّحَاحَ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِمَّنْ يَهِنُ بِزَعْمِ هَذَا الْقَائِلِ، وَنُحْصِيهَا لَعَجَزْنَا عَنْ تَقَصِّي ذِكْرِهَا، وَإِحْصَائِهَا كُلِّهَا، وَلَكِنَّا أَحْبَبْنَا، أَنْ نَنْصِبَ مِنْهَا عَدَدًا يَكُونُ سِمَةً لِمَا سَكَتْنَا عَنْهُ مِنْهَا.
اور اگر ہم سب ایسی حدیثوں کو، جو اہل علم کے نزدیک صحیح ہیں اور اس شخص کے نزدیک ضعیف ہیں، بیان کریں تو ان کا ذکر کرتے کرتے ہم تھک جائیں گے (اس قدر کثرت سے ہیں)، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ان میں سے تھوڑی بیان کریں تاکہ باقی کے لیے وہ نمونہ ہوں۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B19]
ترقیم فوادعبدالباقی:


اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B20
وَهَذَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ وَأَبُو رَافِعٍ الصَّائِغُ، وَهُمَا مَنْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَصَحِبَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنَ الْبَدْرِيِّينَ هَلُمَّ جَرًّا، وَنَقَلَا عَنْهُمُ الأَخْبَارَ، حَتَّى نَزَلَا إِلَى مِثْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَذَوِيهِمَا، قَدْ أَسْنَدَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدِيثًا وَلَمْ نَسْمَعْ فِي رِوَايَةٍ بِعَيْنِهَا، أَنَّهُمَا عَايَنَا أُبَيًّا أَوْ سَمِعَا مِنْهُ شَيْئًا،
ابو عثمان نہدی عبدالرحمن بن مل رحمہ اللہ اور ابو رافع صائغ نقیع مدنی رحمہ اللہ، ان دونوں نے زمانہ جاہلیت پایا ہے (لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میسر نہ ہوئی، ایسے لوگوں کو مخضرم کہتے ہیں) اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے بڑے بدری صحابہ سے ملے ہیں اور ان سے روایتیں کی ہیں، پھر ان کے علاوہ دیگر صحابہ سے، یہاں تک کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ان کے مانند دیگر صحابہ سے روایتیں کی ہیں؛ ان میں سے ہر ایک نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث روایت کی ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، حالانکہ کسی روایت سے یہ ثابت نہیں کہ ان دونوں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہو یا ان سے کچھ سنا ہو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B20]
ترقیم فوادعبدالباقی:


اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B21
وَأَسْنَدَ أَبُو عَمْرٍو الشَّيْبَانِيُّ وَهُوَ مِمَّنْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ، وَكَانَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، وَأَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَيْنِ، وَأَسْنَدَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ وُلِدَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسْنَدَ قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، وَقَدْ أَدْرَكَ زَمَنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَخْبَارٍ، وَأَسْنَدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَقَدْ حَفِظَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَصَحِبَ عَلِيًّا، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، وَأَسْنَدَ رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ، وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، وَقَدْ سَمِعَ رِبْعِيٌّ مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَرَوَى عَنْهُ، وَأَسْنَدَ نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، وَأَسْنَدَ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ثَلَاثَةَ أَحَادِيثَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسْنَدَ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، وَأَسْنَدَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، وَأَسْنَدَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ،
اور ابو عمرو شیبانی سعد بن ایاس رحمہ اللہ نے، جس نے جاہلیت کا زمانہ پایا ہے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جوان مرد تھا، اور ابو معمر عبداللہ بن سنجرہ رحمہ اللہ نے، ہر ایک نے ان میں سے دو دو حدیثیں ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے؛ اور عبید بن عمیر رحمہ اللہ نے، ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ایک حدیث روایت کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، اور عبید پیدا ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں؛ اور قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ نے، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے، ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے تین حدیثیں روایت کیں؛ اور عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ نے، جس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہا، ایک حدیث انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی؛ اور ربعی بن حراش رحمہ اللہ نے، عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے دو حدیثیں روایت کیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، اور ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، اور ربعی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا ہے اور ان سے روایت کی ہے؛ اور نافع بن جبیر بن مطعم رحمہ اللہ نے، ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث روایت کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے؛ اور نعمان بن ابی عیاش رحمہ اللہ نے، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے تین حدیثیں روایت کیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے؛ اور عطاء بن یزید لیثی رحمہ اللہ نے، تمیم داری رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث روایت کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے؛ اور سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے، رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث روایت کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے؛ اور عبید بن عبدالرحمن حمیری رحمہ اللہ نے، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کئی حدیثیں روایت کیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B21]
ترقیم فوادعبدالباقی:


اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: ترقیم شاملہ: -- 92B22
فَكُلُّ هَؤُلَاءِ التَّابِعِينَ الَّذِينَ نَصَبْنَا رِوَايَتَهُمْ، عَنِ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ سَمَّيْنَاهُمْ، لَمْ يُحْفَظْ عَنْهُمْ سَمَاعٌ عَلِمْنَاهُ مِنْهُمْ، فِي رِوَايَةٍ بِعَيْنِهَا، وَلَا أَنَّهُمْ لَقُوهُمْ فِي نَفْسِ خَبَرٍ بِعَيْنِهِ، وَهِيَ أَسَانِيدُ عِنْدَ ذَوِي الْمَعْرِفَةِ بِالأَخْبَارِ، وَالرِّوَايَاتِ مِنْ صِحَاحِ الأَسَانِيدِ، لَا نَعْلَمُهُمْ وَهَّنُوا مِنْهَا شَيْئًا قَطُّ، وَلَا الْتَمَسُوا فِيهَا سَمَاعَ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ، إِذْ السَّمَاعُ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مُمْكِنٌ مِنْ صَاحِبِهِ، غَيْرُ مُسْتَنْكَرٍ لِكَوْنِهِمْ جَمِيعًا كَانُوا فِي الْعَصْرِ الَّذِي اتَّفَقُوا فِيهِ، وَكَانَ هَذَا الْقَوْلُ الَّذِي أَحْدَثَهُ الْقَائِلُ الَّذِي حَكَيْنَاهُ، فِي تَوْهِينِ الْحَدِيثِ بِالْعِلَّةِ الَّتِي وَصَفَ أَقَلَّ مِنْ أَنْ يُعَرَّجَ عَلَيْهِ، وَيُثَارَ ذِكْرُهُ إِذْ كَانَ قَوْلًا مُحْدَثًا، وَكَلَامًا خَلْفًا لَمْ يَقُلْهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ سَلَفَ، وَيَسْتَنْكِرُهُ مَنْ بَعْدَهُمْ خَلَفَ، فَلَا حَاجَةَ بِنَا فِي رَدِّهِ بِأَكْثَرَ مِمَّا شَرَحْنَا، إِذْ كَانَ قَدْرُ الْمَقَالَةِ، وَقَائِلِهَا الْقَدْرَ الَّذِي وَصَفْنَاهُ، وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى دَفْعِ مَا خَالَفَ مَذْهَبَ الْعُلَمَاءِ، وَعَلَيْهِ التُّكْلَانُ.
پھر یہ سب تابعین رحمہم اللہ جنہوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے روایت کی ہے جن کا ذکر ہم نے اوپر کیا، ان کا سماع ان صحابہ رضی اللہ عنہم سے کسی معین روایت میں معلوم نہیں ہوا، نہ ملاقات ہی ان صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ روایت سے ظاہر ہوئی، باوجود اس کے یہ سب روایتیں حدیث اور روایت کے پہچاننے والوں کے نزدیک (یعنی ائمہ حدیث کے نزدیک) صحیح السند ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ کسی نے ان میں سے کسی روایت کو ضعیف کہا ہو یا اس میں سماع کی تلاش کی ہو، اس لیے کہ سماع ممکن ہے اس کا انکار نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ دونوں ایک زمانہ میں موجود تھے اور یہ قول جس کو اس شخص نے نکالا ہے جس کا بیان اوپر ہم نے کیا حدیث کے ضعیف ہونے کے لیے اس علت کی وجہ سے مذکور ہوا، اس لائق بھی نہیں کہ اس طرف التفات کریں یا اس کا ذکر کریں، اس لیے کہ یہ قول نیا نکالا ہوا ہے اور غلط اور فاسد ہے، کوئی اہل علم سلف میں سے اس کا قائل نہیں ہوا۔ اور جو لوگ سلف کے بعد گزرے انہوں نے اس کا انکار کیا، تو اس سے اس کے رد کرنے کی حاجت نہیں۔ جب اس قول کی اور اس کے کہنے والے کی یہ وقعت ہے جیسے بیان ہوئی اور اللہ مدد کرنے والا ہے اس بات کو رد کرنے کے لیے جو عالموں کے مذہب کے خلاف ہے اور اسی پر بھروسا ہے۔ تمام ہوا مقدمہ مسلم کا۔ اب شروع ہوتا ہے بیانِ ایمان کا جو اصل ہے تمام اعمال کا اور جس پر موقوف ہے نجات آخرت کے عذاب سے۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 92B22]
ترقیم فوادعبدالباقی:


Sahih Muslim Hadith 92 in Urdu