🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2ق. باب الإيمان ما هو وبيان خصاله:
باب: ایمان کی حقیقت اور اس کے خصال کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 9 ترقیم شاملہ: -- 98
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَتِهِ: إِذَا وَلَدَتِ الأَمَةُ بَعْلَهَا يَعْنِي السَّرَارِيّ.
(ابن علیہ کے بجائے) محمد بن بشر نے کہا: ہمیں ابوحیان نے سابقہ سند سے وہی حدیث بیان کی، البتہ ان کی روایت میں: «إذا ولدت الأمة بعلها» جب لونڈی اپنا مالک جنے گی (رب کی جگہ بعل، یعنی مالک) کے الفاظ ہیں۔ (أمة سے مملوکہ) لونڈیاں مراد ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 98]
امام مسلم رحمہ اللہ نے اوپر والی روایت دوسرے استاد سے بیان کی ہے۔ صرف ان الفاظ کا فرق ہے «إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ بَعْلَهَا» لونڈی اپنے مالک کو جنے گی یعنی ربّ کی جگہ بعل کا لفظ ہے۔ یعنی السراری: لونڈیاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 98]
ترقیم فوادعبدالباقی: 9
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه في الحديث السابق (97)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥يحيى بن سعيد التيمي، أبو حيانثقة
👤←👥محمد بن بشر العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن بشر العبدي ← يحيى بن سعيد التيمي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← محمد بن بشر العبدي
ثقة حافظ
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 98 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 98
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
بعل:
کی تفسیر بعض نے شوہر سے کی ہے اور بعض نے مالک و آقاء سے،
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسی کو اختیار کیا۔
(2)
سراريّ:
سرية کی جمع ہے،
سریہ اس لونڈی کو کہتے ہیں جو تعلقات قائم کرنے کے لیے رکھی جاتی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 98]

Sahih Muslim Hadith 98 in Urdu