🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحيح الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (998)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
168.  باب هجرة المسلم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 311
311/401 عن هشام بن عامر الأنصاري- ابن عم أنس بن مالك، وكان قُتل أبوه يوم أحد- أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" لا يحل لمسلم أن يصارم مسلماً فوقاً ثلاث، فإنهما ناكبان عن الحق ما داما على صرامهما وإن أولهما فيئاً يكون كفارة عنه سبقُهُ بالفيء، وإن ماتا على صرامهما لم يدخلا الجنة جميعاً أبداً، وإن سلم عليه فأبى أن يقبل تسليمه وسلامه، ردّ عليه الملك، وردّ على الآخر الشيطان".
ہشام بن عامر انصاری سے مروی ہے جو انس بن مالک کے چچا زاد بھائی ہیں جن کے والد احد کے دن شہید ہوئے تھے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے۔ جب تک یہ دونوں اپنے قطع تعلقی پر قائم ہیں حق سے رو گرداں ہی ہوں گے۔ اور جو پہلے رجوع کرے گا اس کا پہلے رجوع کرنا اس گناہ کا کفارہ بن جائے گا اگر وہ اپنے قطع تعلقی کی حالت میں مر گئے تو وہ دونوں کبھی بھی جنت میں اکٹھے داخل نہیں ہوں گے اور اگر وہ اس کو سلام کرے تو وہ نہ تو اس کے سلام کو اور نہ اس کے سلام کرنے کو قبول کرے تو فرشتہ اس کو جواب دیتا ہے اور دوسرے کو شیطان جواب دیتا ہے۔ ان دونوں میں جس نے پہلے اس صورت حال کو ختم کیا اس کا یہ فعل پچھلی غلطی کا کفارہ ہو جائے گا، اور اگر ان دونوں کی اسی حالت میں موت ہو گئی تو یہ دونوں ہی جنت میں کبھی نہ جا سکیں گے، اور اگر ایک نے سلام کیا اور دوسرے نے اس کا سلام قبول کرنے سے انکار کیا تو فرشتہ اس کے سلام کا جواب دیتا ہے اور دوسرے کو شیطان جواب دیتا ہے۔“ [صحيح الادب المفرد/حدیث: 311]
تخریج الحدیث: (صحيح)


Sahih al-Adab al-Mufrad Hadith 311 in Urdu