🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (مَسْأَلَةُ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ العَصْرِ)
عصر کے بعد دو رکعت کا مسئلہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1043
1043 - وَعَنْ كُرَيْبٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامُ، وَسَلْهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي، فَقَالَتْ سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنْهُمَا، ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا، ثُمَّ دَخَلَ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ، فَقُلْتُ: قُولِي لَهُ: تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِعْتُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ [ الرَّكْعَتَيْنِ ] وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا؟ قَالَ:"يَا ابْنَةَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَإِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَهُمَا هَاتَانِ"، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
کریب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ نے انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا کہ انہیں سلام عرض کرنا اور پھر ان سے عصر کے بعد دو رکعتوں کے بارے میں دریافت کرنا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور انہوں نے جو پیغام دے کر مجھے بھیجا تھا وہ میں نے ان تک پہنچا دیا تو انہوں نے فرمایا: ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کرو۔ پس میں ان کے پاس واپس چلا آیا تو انہوں نے مجھے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیا، تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان سے منع فرماتے ہوئے سنا، پھر میں نے آپ کو انہیں پڑھتے ہوئے دیکھا، پھر جب آپ تشریف لائے تو میں نے لونڈی کو آپ کے پاس بھیجا اور کہا کہ آپ سے عرض کرنا، ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو ان دو رکعتوں سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، جبکہ میں نے آپ کو انہیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اے ابوامیہ کی بیٹی! تم نے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے متعلق پوچھا ہے، (وہ ایسے ہوا) کہ عبدالقیس کے کچھ لوگ میرے پاس آئے اور انہوں نے ظہر کے بعد والی دو رکعتوں سے مجھے مشغول رکھا، پس یہ وہ دو رکعتیں ہیں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1043]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1233) و مسلم (297/ 834)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه


Mishkat al-Masabih Hadith 1043 in Urdu