🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (حكم إمامة ٱلصبي)
بچے کو امام بنانا کیسا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1126
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1126 - عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كُنَّا بِمَاءِ مَمَرِّ النَّاسِ، يَمُرُّ بِنَا الرُّكْبَانُ نَسْأَلُهُمْ: مَا لِلنَّاسِ؟ مَا لِلنَّاسِ؟ مَا هَذَا الرَّجُلُ؟ فَيَقُولُونَ: يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ أَوْحَى إِلَيْهِ، أَوْحَى إِلَيْهِ كَذَا. فَكُنْتُ أَحْفَظُ ذَلِكَ الْكَلَامَ، فَكَأَنَّمَا يُغْرَى فِي صَدْرِي، وَكَانَتِ الْعَرَبُ تَلَوَّمُ بِإِسْلَامِهِمُ الْفَتْحَ. فَيَقُولُونَ: اتْرُكُوهُ وَقَوْمَهُ ; فَإِنَّهُ إِنْ ظَهَرَ عَلَيْهِمْ فَهُوَ نَبِيٌّ صَادِقٌ، فَلَمَّا كَانَتْ وَقْعَةُ الْفَتْحِ، بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِهِمْ، وَبَدَرَ أَبِي قَوْمِي بِإِسْلَامِهِمْ، فَلَمَّا قَدِمَ، قَالَ: جِئْتُكُمْ وَاللَّهِ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ حَقًّا، فَقَالَ:"صَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، وَصَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ، وَيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا". فَنَظَرُوا فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي، لَمَّا كُنْتُ أَتَلَقَّى مِنَ الرُّكْبَانِ، فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، وَأَنَا ابْنُ سِتِّ أَوْ سَبْعِ سِنِينَ، وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ كُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَقَلَّصَتْ عَنِّي. فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْحَيِّ: أَلَا تُغَطُّونَ عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ؟! فَاشْتَرَوْا، فَقَطَعُوا لِي قَمِيصًا. فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ فَرَحِي بِذَلِكَ الْقَمِيصِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم ایک چشمہ پر رہائش پذیر تھے جو لوگوں کے لیے عام گزر گاہ تھا، قافلے ہمارے پاس سے گزرتے تو ہم ان سے پوچھتے رہتے کہ اب لوگوں کا کیا حال ہے؟ اور اس شخص کی کیا کیفیت ہے؟ تو وہ کہتے: اس شخص کا خیال ہے کہ اللہ نے اسے رسول بنا کر بھیجا ہے، اس کی طرف یہ یہ وحی کی گئی ہے، میں ان سے یہ باتیں یاد کر لیتا، گویا وہ میرے دل میں گھر کر گئی ہیں، اور عرب اسلام قبول کرنے کے بارے میں فتح مکہ کے منتظر تھے، وہ کہتے تھے: اسے اور اس کی قوم کو (اس کے حال پر) چھوڑ دو، اگر وہ ان پر غالب آ گیا تو وہ سچا نبی ہے، جب مکہ فتح ہوا تو ہر قوم نے اسلام قبول کرنے میں جلدی کی، اور میرے والد نے بھی اسلام قبول کرنے میں اپنی قوم سے جلدی کی، جب وہ واپس پہنچے تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں سچے نبی کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں، انہوں نے فرمایا: یہ نماز اس وقت پڑھو اور یہ نماز اس وقت پڑھو، تم میں سے کوئی ایک شخص اذان کہہ دے اور تم میں سے زیادہ قرآن پڑھنے والا تمہاری امامت کرائے۔ انہوں نے جائزہ لیا تو مجھ سے زیادہ قرآن جاننے والا کوئی نہیں تھا، کیونکہ میں قافلوں سے سن کر قرآن کا علم حاصل کر چکا تھا، انہوں نے مجھے اپنا امام بنا لیا، میں اس وقت چھ یا سات برس کا تھا، میرے اوپر ایک چادر ہی تھی، جب میں سجدہ کرتا تو وہ سکڑ جاتی، (اور میرا ستر کھل جاتا، یہ دیکھ کر) قبیلے کی ایک عورت نے کہا: تم اپنے امام کا سرین ہم سے کیوں نہیں چھپاتے ہو؟ انہوں نے (کپڑا) خریدا اور میرے لیے قمیض بنائی، میں جتنا اس قمیض سے خوش ہوا اتنا کسی اور چیز سے خوش نہیں ہوا۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1126]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4302)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
 
Mishkat al-Masabih Hadith 1126 in Urdu