مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3.18. (المقدور قد كتب)
مقدر لکھا جا چکا
حدیث نمبر: Q113
Moved
حدیث نمبر: 113
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 113 - عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَغَ إِلَى كُلِّ عَبْدٍ مِنْ خَلْقِهِ مِنْ خَمْسٍ: مِنْ أَجَلِهِ، وَعَمَلِهِ، وَمَضْجَعِهِ، وَأَثَرِهِ، وَرِزْقِهِ) رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل ہر بندے کی تخلیق سے متعلق اس کی پانچ چیزوں: اس کی عمر، اس کے عمل، اس کے مرنے اور دفن ہونے کی جگہ، اس کے نقوش اور اس کے رزق سے فارغ ہو چکا۔“ اس حدیث کو احمد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإيمان/حدیث: 113]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (5/ 197 ح 22066 و 22065) [وابن أبي عاصم في السنة: 303 وصححه ابن حبان، الموارد: 1811]
٭ فرج بن فضالة: تابعه مروان بن محمد وللحديث طرق .»
٭ فرج بن فضالة: تابعه مروان بن محمد وللحديث طرق .»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشکوۃ المصابیح کی حدیث نمبر 113 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 113
تحقیق الحدیث:
حسن ہے۔
● اس روایت کی سند میں فرج بن فضالہ ضعیف راوی ہے،
لیکن مروان بن محمد [السنة لابن ابي عاصم: 304] اور ولید بن مسلم [السنة: 305] وغیرہمانے اس کی متابعت کر رکھی ہے۔
اسی طرح وزیر بن صبیح [صحيح ابن حبان، الاحسان: 6117] اور عوام بن صبیح [كشف الاستار، زوائد البزار: 2152] وغیرہما نے یہی روایت یونس بن میسرہ بن حلبس سے بیان کر رکھی ہے، لہٰذا یہ روایت حسن ہے۔
فقہ الحدیث
➊ «أجله» سے مراد موت اور مدت عمر ہے۔
➋ «مضجعه» سے مراد لیٹنے کی جگہ یعنی قبر ہے۔
➌ تقدیر کا فیصلہ ازل سے ہو چکا ہے۔
حسن ہے۔
● اس روایت کی سند میں فرج بن فضالہ ضعیف راوی ہے،
لیکن مروان بن محمد [السنة لابن ابي عاصم: 304] اور ولید بن مسلم [السنة: 305] وغیرہمانے اس کی متابعت کر رکھی ہے۔
اسی طرح وزیر بن صبیح [صحيح ابن حبان، الاحسان: 6117] اور عوام بن صبیح [كشف الاستار، زوائد البزار: 2152] وغیرہما نے یہی روایت یونس بن میسرہ بن حلبس سے بیان کر رکھی ہے، لہٰذا یہ روایت حسن ہے۔
فقہ الحدیث
➊ «أجله» سے مراد موت اور مدت عمر ہے۔
➋ «مضجعه» سے مراد لیٹنے کی جگہ یعنی قبر ہے۔
➌ تقدیر کا فیصلہ ازل سے ہو چکا ہے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 113]
Mishkat al-Masabih Hadith 113 in Urdu