علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ یعنی آپ آڈیو ، ویڈیو بھیجیں ہم ان شاء اللہ ٹیکسٹ/ پی ڈی ایف میں بنا دیں گے۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3.19. (الحديث عن مسألة التقدير أمر مكروه)
مسئلہ تقدیر پر گفتگو ایک نا پسندیدہ امر
حدیث نمبر: 114
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ تَكَلَّمَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ سُئِلَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ لم يسْأَل عَنهُ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے تقدیر کے متعلق ذرا بھی بات کی تو روز قیامت اس سے اس کے متعلق باز پرس ہو گی اور جس نے اس کے متعلق کوئی بات نہ کی اس سے باز پرس نہیں ہو گی۔ “اس حدیث کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإيمان/حدیث: 114]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (84)
٭ و قال البوصيري: ’’ھذا إسناده ضعيف لا تفاقھم علٰي ضعف يحيي بن عثمان، وشيخه (يحيي بن عبد الله بن أبي مليکة) لين الحديث .‘‘»
٭ و قال البوصيري: ’’ھذا إسناده ضعيف لا تفاقھم علٰي ضعف يحيي بن عثمان، وشيخه (يحيي بن عبد الله بن أبي مليکة) لين الحديث .‘‘»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
84
| من تكلم في شيء من القدر سئل عنه يوم القيامة، ومن لم يتكلم فيه لم يسال عنه |
مشكوة المصابيح |
114
| من تكلم في شيء من القدر سئل عنه يوم القيامة ومن لم يتكلم فيه لم يسال عنه |
مشکوۃ المصابیح کی حدیث نمبر 114 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 114
تخریج الحدیث:
[سنن ابن ماجه 84]
تحقیق الحدیث:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
● اسے ابوبکر الآجری نے بھی کتاب الشریعہ [ص235 ح531] میں یحییٰ بن عثمان کی سند سے بیان کیا ہے۔
◄ اس کا راوی یحییٰ بن عثمان التیمی القرشی ابوسہل البصری ضعیف ہے۔ دیکھئے: [تقريب التهذيب: 7606]
◄ علامہ بوصیری نے کہا کہ اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔ [زوائد ابن ماجه: 84]
◄ یحییٰ بن عثمان کا استاد یحییٰ بن عبداللہ بن ابی ملیکہ لین الحدیث (ضعیف) ہے۔ [تقريب التهذيب: 7587]
[سنن ابن ماجه 84]
تحقیق الحدیث:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
● اسے ابوبکر الآجری نے بھی کتاب الشریعہ [ص235 ح531] میں یحییٰ بن عثمان کی سند سے بیان کیا ہے۔
◄ اس کا راوی یحییٰ بن عثمان التیمی القرشی ابوسہل البصری ضعیف ہے۔ دیکھئے: [تقريب التهذيب: 7606]
◄ علامہ بوصیری نے کہا کہ اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔ [زوائد ابن ماجه: 84]
◄ یحییٰ بن عثمان کا استاد یحییٰ بن عبداللہ بن ابی ملیکہ لین الحدیث (ضعیف) ہے۔ [تقريب التهذيب: 7587]
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 114]
Mishkat al-Masabih Hadith 114 in Urdu