🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4.07. (عَذَابُ الْقَبْرِ لِلْكَافِرِ)
کافر کے لیے عذاب قبر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 134
134 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَيُسَلَّطُ عَلَى الْكَافِرِ فِي قَبْرِهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا تَنْهَسُهُ وَتَلْدَغُهُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، لَوْ أَنَّ تِنِّينًا مِنْهَا نَفَخَ فِي الْأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ خَضِرًا"رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ، وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ، وَقَالَ: (سَبْعُونَ) بَدَلَ (تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ) .
ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کافر پر، اس کی قبر میں، ننانوے اژدھا مسلط کر دیے جاتے ہیں، وہ قیامِ قیامت تک اسے ڈستے رہیں گے، اگر ان میں سے ایک اژدھا زمین پر پھونک مار دے تو زمین کسی قسم کا سبزہ نہ اگائے۔“ اس حدیث کو دارمی اور ترمذی نے روایت کیا ہے، انہوں نے ننانوے کے بجائے ستر (اژدھا) کا ذکر کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإيمان/حدیث: 134]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الدارمي (1/ 331 ح 2818 وسنده حسن) والترمذي (2460 وقال: غريب) و سنده ضعيف.
انظر أنوار الصحيفة (ص 258) و حديث الدارمي يغني عنه . قلت: دراج صدوق و حديثه عن أبي الھيثم حسن لذاته .»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن


تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2460
لو أكثرتم ذكر هاذم اللذات لشغلكم عما أرى فأكثروا من ذكر هاذم اللذات الموت فإنه لم يأت على القبر يوم إلا تكلم فيه فيقول أنا بيت الغربة وأنا بيت الوحدة وأنا بيت التراب وأنا بيت الدود فإذا دفن العبد المؤمن قال له القبر مرحبا وأهلا أما إن كنت لأحب من يمشي على
مشكوة المصابيح
134
يسلط على الكافر في قبره تسعة وتسعون تنينا تنهشه وتلدغه حتى تقوم الساعة ولو ان تنينا منها نفخ في الارض ما انبتت خضرا
مشکوۃ المصابیح کی حدیث نمبر 134 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 134
تحقیق الحدیث:
حسن ہے۔
◈ دارمی والی سند میں دراج راوی ہیں جو صدوق حسن الحدیث ہیں، لیکن ابوالہیثم سے ان کی روایت ضعیف ہوتی ہے۔ دیکھئے: [تقريب التهذيب: 1824، و سنن الترمذي: 2033 بتحقيقي]
◈ اور یہ روایت دراج نے ابوالہثیم سے بیان کر رکھی ہے،
لہٰذا یہ سند ضعیف ہے۔
ترمذی والی سند میں عبیداللہ بن الولید اور عطیہ العوفی دونوں ضعیف ہے۔

تنبیہ:
دراج کی ابو الہیثم سے روایت ضعیف نہیں بلکہ حسن ہوتی ہے۔ دیکھئے: [اضواء المصابيح فى تحقيق مشكاة المصابيح ح: 222]
لہٰذا دارمی والی روایت حسن لذاتہ ہے۔ «والحمد لله عليٰ اصلاح ذلك»
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 134]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2460
باب:۔۔۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلی پر تشریف لائے اور دیکھا کہ لوگ ہنس رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”آگاہ رہو! اگر تم لوگ لذتوں کو ختم کر دینے والی چیز کو یاد رکھتے تو تم اپنی ان حرکتوں سے باز رہتے، سو لذتوں کو ختم کر دینے والی موت کا ذکر کثرت سے کرو، اس لیے کہ قبر روزانہ بولتی ہے اور کہتی ہے: میں غربت کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں مٹی کا گھر ہوں، اور میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں، پھر جب مومن بندے کو دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے مرحبا (خوش آمدید) کہتی ہے اور مبارک باد دیتی ہے اور کہتی ہے: بیشک تو میرے نزدیک ان میں سب سے زیاد۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2460]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عبید اللہ وصافی اور عطیہ عوفی دونوں ضعیف راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2460]

Mishkat al-Masabih Hadith 134 in Urdu