مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (نداء الميت الصالح والفاسد)
نیک اور بری میت کی پکار
حدیث نمبر: 1647
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ: قَدِّمُونِي وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَت لأَهْلهَا: يَا وَيْلَهَا أَيْن يذهبون بِهَا؟ يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ وَلَو سمع الْإِنْسَان لصعق. رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب جنازے کو رکھا جاتا ہے اور لوگ اسے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتا ہے: مجھے آگے پہنچاؤ اور اگر وہ صالح نہ ہو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہتا ہے: تباہی ہو، تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو۔ انسان کے علاوہ ہر چیز اس کی آواز سنتی ہے، اور اگر انسان سن لے تو وہ بے ہوش ہو جائے۔ “ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1647]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (1316)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح