🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5.28. (وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 179
179 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ مَنْ تَرَكَ مِنْكُمْ عُشْرَ مَا أُمِرَ بِهِ هَلَكَ، ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ مَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ بِعُشْرِ مَا أُمِرَ بِهِ نَجَا) . رُوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم اس دور میں ہو کہ تم میں سے جس نے احکامِ شرعیہ کے دسویں حصے پر عمل نہ کیا تو وہ ہلاک ہو جائے گا، پھر ایک ایسا دور آئے گا کہ ان میں سے جس نے احکاماتِ شرعیہ کے دسویں حصے پر عمل کر لیا تو وہ نجات پا جائے گا“۔ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإيمان/حدیث: 179]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (2267 وقال: ھذا حديث غريب .)
٭ نعيم بن حماد حسن الحديث (کما تقدم: 167) ولکن ھذا مما أنکر عليه . و سفيان بن عيينة مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف


تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2267
إنكم في زمان من ترك منكم عشر ما أمر به هلك ثم يأتي زمان من عمل منكم بعشر ما أمر به نجا
المعجم الصغير للطبراني
801
أنتم في زمن من ترك عشر ما أمر به هلك وسيأتي زمن من عمل بعشر ما أمر به نجا
مشكوة المصابيح
179
إنكم في زمان ترك منكم عشر ما امر به هلك ثم ياتي زمان من عمل منهم بعشر ما امر به نجا
مشکوۃ المصابیح کی حدیث نمبر 179 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 179
تحقیق الحدیث
اس کی سند ضعیف ہے۔
یہ سند دو وجہ سے ضعیف ہے:
➊ نعیم بن حماد رحمہ اللہ اگرچہ صدوق حسن الحدیث تھے لیکن یہ روایت ان روایتوں میں سے ہے جن کا نعیم پر انکار کیا گیا تھا۔ دیکھئے میری کتاب علمی مقالات [ج1ص462]
➋ امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ مدلس تھے اور یہ روایت «عن» سے ہے۔
◄ اس روایت کا سیدنا ابوذر الغفاری رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک ضعیف شاہد مسند احمد [5؍155] اور ذم الکلام للہروی [نسخة عبدالرحمٰن الشبل ح97، نسخة الشيخ الصالح ابي جابر عبدالله بن محمد بن عثمان الانصاري حفظه الله ح100] وغیرہما میں ہے۔ دیکھئے: [السلسلة الصحيحة للالباني 6؍40، 41 ح2510]
↰ یہ شاہد متصل نہ ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
”تم لوگ ایسے زمانے میں ہو کہ نماز لمبی اور خطبہ مختصر ہے، علماء زیادہ اور خطباء تھوڑے ہیں اور تم پر ایسا زمانہ آئے گا کہ نماز مختصر اور خطبہ لمبا ہو گا، خطباء زیادہ اور علماء تھوڑے ہوں گے۔“ الخ [المعجم الكبير للطبراني 113/9ح 8567 وسنده حسن]
↰ اس موقوف روایت (جو کہ حکماً مرفوع ہے) میں درج بالا حدیث کا کوئی شاہد نہیں ہے۔

خلاصة التحقيق:
◄ اس روایت کو بعض علماء نے حسن لغیرہ قرار دیا ہے لیکن یہ اپنے تمام شواہد کے ساتھ ضعیف ہے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 179]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2267
ایسے زمانے کی پیشین گوئی جس میں تھوڑی نیکی بھی باعث نجات ہو گی۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ایسے زمانہ میں ہو کہ جو اس کا دسواں حصہ چھوڑ دے جس کا اسے کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو وہ ہلاک ہو جائے گا، پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ تم میں سے جو اس کے دسویں حصہ پر عمل کرے جس کا اسے کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو وہ نجات پا جائے گا“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2267]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اس وقت جب کہ دین کا غلبہ ہے اس کے معاونین کی کثرت ہے ایسے وقت میں شرعی امورمیں سے دسویں حصہ کا ترک کرنا اور اسے چھوڑدینا باعث ہلاکت ہے،
لیکن وہ زمانہ جو فسق وفجور سے بھرا ہوا ہوگا،
اسلام کمزور اور کفر غالب ہوگا،
اس وقت دین کے معاونین قلت میں ہوں گے توایسے وقت میں احکام شرعیہ کے دسویں حصہ پر عمل کرنے والابھی کا میاب وکامران ہوگا،
لیکن اس دسویں حصہ میں ارکان اربعہ ضرور شامل ہوں۔

نوٹ:
(شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے،
ورنہ اس کے راوی ”نعیم بن حماد“ حافظہ کے سخت ضعیف ہیں،
تفصیل کے لیے دیکھیے:
الصحیحة رقم: 2510،
وتراجع الألبا نی: 224)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2267]

Mishkat al-Masabih Hadith 179 in Urdu