🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5.3. (ذم الرهبانية)
رہبانیت کی مذمت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 181
181 - وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: (لَا تُشَدِّدُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَيُشَدِّدَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ، فَإِنَّ قَوْمًا شَدَّدُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ، فَشَدَّدَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، فَتِلْكَ بَقَايَاهُمْ فِي الصَّوَامِعِ وَالدِّيَارِ وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا کرتے تھے: اپنے آپ کو مشقت میں نہ ڈالا کرو، ورنہ اللہ بھی تمہیں مشقت میں ڈال دے گا، کیونکہ ایک قوم نے اپنے آپ پر سختی کی تو اللہ نے بھی ان پر سختی کی، یہود و نصاریٰ کی عبادت گاہوں میں یہ سختیاں انہی کی باقیات ہیں۔ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ﴾ [سورة الحديد: 27] رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کی تھی، ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا۔ اس حدیث کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإيمان/حدیث: 181]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (4904)
٭ سعيد بن عبد الرحمٰن بن أبي العمياء و ثقه ابن حبان وحده و لبعض الحديث شاھد عند البخاري في التاريخ الکبير (94/4) وسنده حسن وھو يغني عنه .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف


تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4904
لا تشددوا على أنفسكم فيشدد عليكم فإن قوما شددوا على أنفسهم فشدد الله عليهم فتلك بقاياهم في الصوامع والديار ورهبانية ابتدعوها ما كتبناها عليهم
مشكوة المصابيح
181
لا تشددوا على انفسكم فيشدد الله عليكم فإن قوما شددوا على انفسهم فشدد الله عليهم فتلك بقاياهم في الصوامع والديار
مشکوۃ المصابیح کی حدیث نمبر 181 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 181
تحقیق الحدیث
اس کی سند ضعیف ہے۔
◄ اسے ابویعلی الموصلی [المسند 365/6ح 3694] نے بھی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
اس روایت کے راوی سعید بن عبدالرحمٰن بن ابی العمیاء کو ابن حبان کے سوا کسی نے ثقہ قرار نہیں دیا یعنی وہ مجہول الحال ہے۔
◄ التاریخ الکبیر للبخاری [97/4] میں روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
«لا تُشَدِّدُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ قَبْلَكُمْ بِتَشْدِيدِهِمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَسَتَجِدُونَ بَقَايَاهُمْ فِي الصَّوَامِعِ وَالدِّيَارَاتِ»
اپنے آپ پر تشدد نہ کرو کیونکہ تم سے پہلے اپنے آپ پر تشدد کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے اور تم ان کے باقی رہ جانے والے نشانات راہبوں کے عبادت خانوں اور (سجدہ گاہوں والے) گھروں میں دیکھو گے۔
◄ ↰ اس روایت کی سند حسن لذاتہ ہے۔
عبداللہ بن صالح کاتب اللیث سے امام بخاری کی روایت حسن ہوتی ہے اور باقی سند صحیح ہے۔
◄ ابوشریح عبدالرحمٰن بن شریح الاسکندرانی ثقہ فاضل تھے۔ ان پر ابن سعد کی جرح مردود ہے۔
◄ نیز دیکھئے: [تقريب التهذيب 3892]

فقہ الحدیث:
التاریخ الکبیر للبخاری والی روایت کا فقہ الحدیث درج ذیل ہے۔
➊ شریعت میں جن امور کی اجازت اور رخصت موجود ہے، انہیں خوامخواہ اپنے آپ پر حرام یا ممنوع قرار نہیں دینا چاہئیے بلکہ رخصت سے فائدہ اٹھانا ہی بہتر ہے۔
➋ اسلام میں رہبانیت نہیں ہے بلکہ معاشرے میں رہ کر اپنی اور لوگوں کی اصلاح میں مصروف رہنا چاہئیے۔
➌ غلو سے ہر وقت کلی اجتناب کرتے ہوئے ہمیشہ عدل و انصاف والا درمیانی راستہ اختیار کرنا چاہئیے۔
➍ معاشرے سے دور خانقاہی نظام اصل میں احبار یہود اور رہبان نصاریٰ کے اعمال کی کاپی ہے۔
➎ امام ابوداود کا سنن ابوداود میں کسی روایت پر سکوت اس کے حسن یا صحیح ہونے کی دلیل نہیں بلکہ عدل و انصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے اسماء الرجال اور اصول حدیث کے مطابق ہی روایت کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہئیے۔
➏ اسلام میں چلہ کشی کا کوئی تصور نہیں ہے۔
➐ قرآن و حدیث سے زہد اور پرہیزگاری کا تو ثبوت ملتا ہے لیکن پیری مریدی کا کوئی ثبوت دلیل میں نہیں ہے۔
➑ شریعت اسلامیہ میں اہل اسلام اور اہل ایمان کی صحیح تربیت کا پورا خیال رکھا گیا ہے تاکہ مسلمان، گمراہیوں سے بچتے ہوئے صراط مستقیم پر گامزن رہیں اور اسی میں نجات ہے۔
➒ سنت پر عمل میں ہی نجات ہے۔
➓ بدعات سے اجتناب ضروری ہے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 181]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4904
حسد کا بیان۔
سہل بن ابی امامہ کا بیان ہے کہ وہ اور ان کے والد عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں جب وہ مدینے کے گورنر تھے، مدینے میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو دیکھا، وہ ہلکی یا مختصر نماز پڑھ رہے ہیں، جیسے وہ مسافر کی نماز ہو یا اس سے قریب تر کوئی نماز، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میرے والد نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، آپ بتائیے کہ یہ فرض نماز تھی یا آپ کوئی نفلی نماز پڑھ رہے تھے تو انہوں نے کہا: یہ فرض نماز تھی، اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے، اور جب بھی مجھ سے کوئی غلطی ہوتی ہے، میں اس کے بدلے سجدہ سہو کر لیتا ہوں، پھر کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4904]
فوائد ومسائل:
یہ روایت بھی ضعیف ہے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ حسد اور بغاوت کی وجہ سے افراد، خاندان اور قومیں دنیا کے اند ر ہی تباہ و برباد ہو کر رہ جاتی ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4904]

Mishkat al-Masabih Hadith 181 in Urdu