🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5.38. (كلام النبى صلى الله عليه وسلم)
کلام نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 195
‏‏‏‏وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلَامِي لَا يَنْسَخُ كَلَامَ اللَّهِ وَكَلَامُ اللَّهِ يَنْسَخُ كَلَامِي وَكَلَامُ اللَّهِ يَنْسَخُ بعضه بَعْضًا»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ نے فرمایا: میرا کلام، اللہ کے کلام کو منسوخ نہیں کر سکتا، جبکہ اللہ کا کلام میرے کلام کو منسوخ کر سکتا ہے اور اور اللہ کا کلام ایک دوسرے کو منسوخ کر سکتا ہے۔ اس کو دارقطنی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإيمان/حدیث: 195]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده موضوع، رواه الدارقطني (4/ 145)
٭ فيه جبرون بن واقد: متھم .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده موضوع

مشکوۃ المصابیح کی حدیث نمبر 195 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل،مشکوۃ المصابیح 195
«كلامي لا ينسخ كلام الله» والی روایت موضوع ہے
سوال:
ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «كلامي لا ينسخ كلامَ الله، وكلامُ الله ينسخ كلامي، وكلامُ الله ينسخ بعضه بعضًا» میرا کلام اللہ کے کلام کو منسوخ نہیں کرتا، اللہ کا کلام میرے کلام کو منسوخ کرتا ہے اور اللہ کے کلام کا بعض اپنے بعض کو منسوخ کرتا ہے۔ [مشكوٰة المصابيح: 195]
کیا یہ روایت صحیح ہے؟
الجواب:
مشکوٰۃ میں یہ روایت بحوالہ (سنن) دارقطنی [4/ 145 ح 4233] مذکور ہے۔
اسے دارقطنی، ابن عدی [الكامل 2/ 602 دوسرانسخه 2/ 443] اور ابن الجوزی [العلل المتناهيه 1/ 125 ح 190] نے «جبرون بن واقد: حدثناسفيان بن عيينة عن أبى الزبير عن جابر» کی سند سے روایت کیا ہے۔
ابن عدی نے کہا: «منكر» یہ حدیث منکر ہے۔ نیز دیکھئے: [ذخيرة الحفاظ: 4406]
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بارے میں کہا: «موضوع» ۔ [ميزان الاعتدال 1/ 388]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس فیصلے کو لسان المیزان میں برقرار رکھا ہے۔ دیکھئے: [اللسان 2/ 94]
جبرون بن واقد کے بارے میں ذہبی نے کہا: «ليس بثقة» وہ ثقہ نہیں ہے۔ [ديوان الضعفاء والمتروكين: 722، المغني فى الضعفاء: 1089]
اور کہا: «متهم فإنه روي بقلة حياء… .» یہ (وضعِ حدیث کے ساتھ) متہم ہے کیونکہ اس نے (یہ روایت) بے حیائی سے بیان کی…۔ [ميزان الاعتدال 1/ 387، 388]
«مُتهم» سے مراد «متهم بالوضع» ہے۔ [الكشف الحثيث عمن ر مي بوضع الحديث ص 122]
کسی ایک محدث نے بھی اس راوی کی توثیق نہیں کی ہے۔
خلاصۃ التحقیق:
یہ روایت جبرون بن واقد کی وجہ سے موضوع ہے۔ (10 ربیع الثانی 1427ھ)
. . . تفصیل کے لئے دیکھئے . . .
ماہنامہ الحدیث: 26 صفحہ 48
[ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 999]