مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (شرطان لقبول الصيام: ١. الإيمان ٢. الاحتساب)
روزے کی مقبولیت کی دو شرطیں 1۔ ایمان 2۔ احتساب
حدیث نمبر: 1958
1958 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایمان و اخلاص اور ثواب کی نیت سے روزے رکھے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، جو شخص ایمان و اخلاص اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرے (نماز تراویح کا اہتمام کرے) تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اور جو شخص ایمان و اخلاص اور ثواب کی نیت سے شب قدر کا قیام کرے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 1958]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (37) و مسلم (760/175)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 1958 in Urdu