مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لَا يَجُوزُ تَرْتِيلُ الْقُرْآنِ بِاللَّحْنِ الْغِنَائِي)
قرآن کو راگ بناکر پڑھنا درست نہیں
حدیث نمبر: 2206
(الْفَصْلُ الثَّالِثُ) 2206 - عَنْ جَابِرٍ قَالَ: (خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَفِينَا الْأَعْرَابِيُّ وَالْأَعْجَمِيُّ. فَقَالَ اقْرَءُوا فَكُلٌّ حَسَنٌ، وَسَيَجِيءُ أَقْوَامٌ يُقِيمُونَهُ كَمَا يُقَامُ الْقِدْحُ يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ) رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم قرآن پڑھ رہے تھے اور ہم میں اعرابی اور عجمی بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پڑھو، سب ٹھیک ہے، عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو اسے اس طرح (مبالغہ کے ساتھ) درست کریں گے جیسے تیر درست کیا جاتا ہے، وہ دنیا میں ہی جزا چاہیں گے اور اسے آخرت تک مؤخر نہیں کریں گے۔“ (یعنی وہ طلب دنیا کے لیے پڑھیں گے) اسنادہ صحیح، رواہ ابوداؤد والبیہقی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2206]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (830) والبيھقي في شعب الإيمان (2642)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 2206 in Urdu