مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1.23. (التَّرْغِيبُ فِي طَلَبِ العِلْمِ)
حصول علم کی ترغیب
حدیث نمبر: 246
246 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - رِوَايَةً:"يُوشِكُ أَنْ يَضْرِبَ النَّاسُ أَكْبَادَ الْإِبِلِ يَطْلُبُونَ الْعِلْمَ، فَلَا يَجِدُونَ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ الْمَدِينَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي جَامِعِهِ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: إِنَّهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَمَثَلُهُ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى: وَسَمِعْتُ ابْنَ عُيَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَ: هُوَ الْعُمَرِيُّ الزَّاهِدُ وَاسْمُهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”عنقریب لوگ طلب علم میں اونٹوں پر سفر کریں گے، لیکن وہ عالم مدینہ سے زیادہ عالم کسی کو نہیں پائیں گے۔“ اور ان کی جامع میں ہے کہ ابن عیینہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اس سے مراد مالک بن انس رحمہ اللہ ہیں۔ انہی کے مثل عبدالرزاق رحمہ اللہ سے مروی ہے، اسحاق بن موسیٰ رحمہ اللہ نے بیان کیا، میں نے ابن عیینہ رحمہ اللہ سے سنا، تو انہوں نے کہا: اس سے مراد عمری زاہد ہے اور ان کا نام عبدالعزیز بن عبداللہ ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 246]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (2680 وقال: حسن صحيح .) [و صححه الحاکم علٰي شرط مسلم (1/ 91 ح 307) ووافقه الذهبي .]
٭ ابن جريج و أبو الزبير مدلسان و عنعنا و للحديث شاھد منقطع عند ابن عبد البر في الانتقاء (ص 20)»
٭ ابن جريج و أبو الزبير مدلسان و عنعنا و للحديث شاھد منقطع عند ابن عبد البر في الانتقاء (ص 20)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2680
| يوشك أن يضرب الناس أكباد الإبل يطلبون العلم فلا يجدون أحدا أعلم من عالم المدينة |
مشكوة المصابيح |
246
| يوشك ان يضرب الناس اكباد الإبل يطلبون العلم فلا يجدون احدا اعلم من عالم المدينة |
مسندالحميدي |
1181
| يوشك أن يضرب الناس آباط المطي في طلب العلم فلا يجدون عالما أعلم من عالم المدينة |
مشکوۃ المصابیح کی حدیث نمبر 246 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 246
تحقیق الحدیث:
اس کی سند ضعیف ہے۔
◄ اس میں ابن جریج اور ابوالزبیر المکی دونوں مدلس ہیں اور روایت «عن» سے ہے، لہٰذا یہ سند ضعیف ہے۔
◄ [الانتقاء لابن عبدالبر ص20] میں اس کا ایک منقطع (یعنی ضعیف) شاہد بھی ہے۔
فائدہ:
جب یہ روایت ضعیف ہے تو پھر یہ کہنا کہ ”اس سے مراد فلاں ہیں یا فلاں“ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
◄ یہ بالکل برحق ہے کہ امام مالک بہت بڑے ثقہ امام تھے اور عبدالعزیز بن عبداللہ بن عبداللہ بن عمر العمری بھی ثقہ تھے، لیکن پہلے حدیث کا صحیح ہونا ضروری ہے، اس کے بعد ہی فقہ الحدیث پر غور ہو سکتا ہے۔
اس کی سند ضعیف ہے۔
◄ اس میں ابن جریج اور ابوالزبیر المکی دونوں مدلس ہیں اور روایت «عن» سے ہے، لہٰذا یہ سند ضعیف ہے۔
◄ [الانتقاء لابن عبدالبر ص20] میں اس کا ایک منقطع (یعنی ضعیف) شاہد بھی ہے۔
فائدہ:
جب یہ روایت ضعیف ہے تو پھر یہ کہنا کہ ”اس سے مراد فلاں ہیں یا فلاں“ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
◄ یہ بالکل برحق ہے کہ امام مالک بہت بڑے ثقہ امام تھے اور عبدالعزیز بن عبداللہ بن عبداللہ بن عمر العمری بھی ثقہ تھے، لیکن پہلے حدیث کا صحیح ہونا ضروری ہے، اس کے بعد ہی فقہ الحدیث پر غور ہو سکتا ہے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 246]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2680
عالم مدینہ کی فضیلت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: ”عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ لوگ علم کی تلاش میں کثرت سے لمبے لمبے سفر طے کریں گے، لیکن (کہیں بھی) انہیں مدینہ کے عالم سے بڑا کوئی عالم نہ ملے گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب العلم/حدیث: 2680]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: ”عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ لوگ علم کی تلاش میں کثرت سے لمبے لمبے سفر طے کریں گے، لیکن (کہیں بھی) انہیں مدینہ کے عالم سے بڑا کوئی عالم نہ ملے گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب العلم/حدیث: 2680]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں ابن جریج اور ابوالزبیر مدلس ہیں،
اورروایت عنعنہ سے ہے،
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اس کا ایک شاہد مروی ہے،
مگر اس میں زہر بن محمد کثیر الغلط،
اور سعید بن ابی ہند مدلس ہیں)
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں ابن جریج اور ابوالزبیر مدلس ہیں،
اورروایت عنعنہ سے ہے،
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اس کا ایک شاہد مروی ہے،
مگر اس میں زہر بن محمد کثیر الغلط،
اور سعید بن ابی ہند مدلس ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2680]
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1181
1181- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”عنقریب وہ وقت آئے گا جب لوگ علم کے حصول کے لیے اونٹوں کے جگر پگھلادیں گے لیکن انہیں کوئی ایسا عالم نہیں ملے گا جو مدینہ کے عالم سے زیادہ علم رکھتا ہو۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1181]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ علم قیامت تک چلتا رہے گا، اور علم کے طالب دور دراز کا سفر کرتے رہیں گے، اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مدینہ منورہ علم کا سر چشمہ تھا، ہے اور رہے گا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ علم قیامت تک چلتا رہے گا، اور علم کے طالب دور دراز کا سفر کرتے رہیں گے، اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مدینہ منورہ علم کا سر چشمہ تھا، ہے اور رہے گا۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1179]
Mishkat al-Masabih Hadith 246 in Urdu