مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ تَقْدِيمِ أَوْ تَأْخِيرِ أَفْعَالِ الحَجِّ)
حج کا کوئی فعل پہلے یا بعد کر جانے کے بارے میں
حدیث نمبر: 2657
الْفَصْلُ الثَّانِي 2657 - عَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ ، فَقَالَ:"احْلِقْ، أَوْ قَصِّرْ، وَلَا حَرَجَ". وَجَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ. قَالَ:"ارْمِ، وَلَا حَرَجَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے سر منڈانے سے پہلے طواف افاضہ کر لیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اب سر منڈا لو یا بال کترا لو، کوئی حرج نہیں۔“ پھر ایک دوسرا آدمی آیا تو اس نے عرض کیا، میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اب کنکریاں مار لو، کوئی حرج نہیں۔“ سندہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناسك/حدیث: 2657]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (885 وقال: حسن صحيح) [و أبو داود (1922، 1935) و ابن ماجه (3010) ]
٭ سفيان الثوري مدلس و عنعن .»
٭ سفيان الثوري مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
Mishkat al-Masabih Hadith 2657 in Urdu