یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مسألة القصاص فى الحرم)
حرم میں قصاص کا مسئلہ
حدیث نمبر: 2718
2718 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ ، فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ وَقَالَ: إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ. فَقَالَ:"اقْتُلْهُ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے روز مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا، جب آپ نے اسے اتارا تو کسی آدمی نے آ کر بتایا کہ ابن خطل غلافِ کعبہ کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناسك/حدیث: 2718]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1846) و مسلم (1357/450)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 2718 in Urdu