مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (عدم القبض على شيء مزحا)
ہنسی مذاق میں بھی کسی کی چیز پر قبضہ نہیں کرنا چاہیے
حدیث نمبر: 2948
2948 - وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"لَا يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ عَصَا أَخِيهِ لَاعِبًا جَادًّا، فَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَرِوَايَتُهُ إِلَى قَوْلِهِ:"جَادًّا".
سائب بن یزید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی لاٹھی ہنسی مذاق کے طور پر اسے غصہ دلانے کے لیے نہ لے، جو شخص اپنے بھائی کی لاٹھی لے لے تو وہ اسے واپس کر دے۔ “ ترمذی، ابوداؤد، اور ابوداؤد کی روایت ((جَادًّا)) تک ہے۔ اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2948]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (2160 وقال: حسن غريب) و أبو داود (5003)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 2948 in Urdu