مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (أَكْلُ شَيْءٍ مَطْبُوخٍ عَلَى النَّارِ لَا يُنْقِضُ الوُضُوءَ)
آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا
حدیث نمبر: 309
309 - وَعَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ - وَهِيَ مِنْ أَدْنَى خَيْبَرَ - صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ، فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِيَ، فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ، فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، حتیٰ کہ خیبر کے زیریں علاقے صہبا پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز عصر ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زاد راہ طلب کیا تو صرف ستو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق انہیں بھگو دیا گیا تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور ہم نے اسے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز مغرب کے لیے کھڑے ہوئے تو کلی کی اور ہم نے بھی کلی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور (نیا) وضو نہ فرمایا۔ رواہ البخاری (209)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطهارة/حدیث: 309]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (209)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 309 in Urdu