علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بيان قتل المسلم بالكافر)
کافر کے بدلے میں مسلمان کو قتل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3461
3461 - وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، مَا عِنْدَنَا إِلَّا مَا فِي الْقُرْآنِ، إِلَّا فَهْمًا يُعْطَى رَجُلٌ فِي كِتَابِهِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ. قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ، وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَذَكَرَ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ:"لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا". فِي"كِتَابِ الْعِلْمِ".
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو قرآن میں نہ ہو؟ انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس نے دانے کو پھاڑا اور روح کو پیدا فرمایا! ہمارے پاس صرف وہی کچھ ہے جو قرآن میں ہے، البتہ دین کا وہ فہم ہے جو بندے کو اللہ کی کتاب سے عطا کیا جاتا ہے اور جو کچھ صحیفہ میں لکھا ہوا ہے (وہ ہمارے پاس ہے)۔ میں نے عرض کیا: صحیفہ میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”دیت، قیدی چھڑانے اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلہ میں قتل نہ کیا جائے، کے متعلق احکامات۔ رواہ البخاری۔ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کہ ”کسی جان کو ناحق قتل نہ کیا جائے۔ “ کتاب العلم میں ذکر کی گئی ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3461]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6903)
حديث ابن مسعود تقدم (211)»
حديث ابن مسعود تقدم (211)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 3461 in Urdu