علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (إحضار المقتول قاتله أمام الله تعالى)
مقتول کا اپنے قاتل کو اللہ تعالیٰ کے سامنے لانا
حدیث نمبر: 3465
3465 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِالْقَاتِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، نَاصِيَتُهُ وَرَأْسُهُ بِيَدِهِ، وَأَوْدَاجُهُ تَشْخُبُ دَمًا، يَقُولُ: يَا رَبِّ! قَتَلَنِي، حَتَّى يُدْنِيَهُ مِنَ الْعَرْشِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ابن عباس رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”روزِ قیامت مقتول قاتل کو لے کر آئے گا اس (قاتل) کی پیشانی اور اس کا سر مقتول کے ہاتھ میں ہو گا اور اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا۔ اور وہ کہے گا: رب جی! اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟ حتی کہ وہ اسے عرش کے قریب لے جائے گا۔ “ اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3465]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (3029 وقال: حسن) و النسائي (87/7ح 4010) و ابن ماجه (2621)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 3465 in Urdu