مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (قَضِيَّةُ قَتْلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَهْلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ)
حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے قتل کا معاملہ
حدیث نمبر: 3531
[ ص: 2306 ] (2) بَابُ الْقَسَامَةِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 3531 - عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُمَا حَدَّثَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ أَتَيَا خَيْبَرَ، فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ، فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ، فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَحُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمُوا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمْ فَبَدَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (كَبِّرِ الْكُبْرَ) - قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: يَعْنِي لِيَلِيَ الْكَلَامَ الْأَكْبَرُ - فَتَكَلَّمُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَحِقُّوا قَتِيلَكُمْ أَوْ قَالَ صَاحِبَكُمْ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْرٌ لَمْ نَرَهُ قَالَ: فَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ فِي أَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْمٌ كُفَّارٌ فَفَدَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ. وَفِي رِوَايَةٍ تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَكُمْ أَوْ صَاحِبَكُمْ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ بِمِائَةِ نَاقَةٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حشمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان دونوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ اور محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خیبر آئے اور وہ دونوں کھجوروں کے جھنڈ میں الگ ہو گئے، چنانچہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ قتل کر دیے گئے۔ اس کے بعد عبدالرحمٰن بن سہل رضی اللہ عنہ اور مسعود رضی اللہ عنہ کے دونوں بیٹے حویصہ اور محیصہ رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ اپنے ساتھی کے معاملے کے متعلق بات کرنے لگے، تو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے، جو کہ لوگوں میں سب سے چھوٹے تھے، بات کرنا شروع کی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: «كَبِّرِ الْكُبْرَ» ”بڑے کو اس کے بڑے ہونے کا حق دو۔“ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد تھی کہ جو سب سے بڑا ہے وہ کلام کرے۔ انہوں نے بات کی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے مقتول ساتھی کی دیت کے متعلق پچاس قسمیں اٹھا کر حق دار بن سکتے ہو۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ ایسا معاملہ ہے کہ ہم نے اسے دیکھا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہود کے پچاس آدمی قسم اٹھا کر تم سے بری ہو جائیں گے۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ تو کافر لوگ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی طرف سے انہیں دیت ادا فرمائی، اور ایک روایت میں ہے: ”تم پچاس قسمیں اٹھاؤ اور اپنے قاتل یا اپنے ساتھی کے مستحق بن جاؤ۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی طرف سے سو اونٹنیاں بطور دیت ادا فرمائیں۔ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3531]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6142. 6143 و الرواية الثانية: 7192) و مسلم (1669/3)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 3531 in Urdu