مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (أَمْرُ تَرْكِ الْمَكَانِ)
جگہ چھوڑنے کا حکم
حدیث نمبر: 4589
4589 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا فِي دَارٍ كَثُرَ فِيهَا عَدَدُنَا وَأَمْوَالُنَا، فَتَحَوَّلْنَا إِلَى دَارٍ قَلَّ فِيهَا عَدَدُنَا وَأَمْوَالُنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"ذَرُوهَا ذَمِيمَةً". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم ایک گھر میں تھے جس سے ہمارے افراد اور اموال میں اضافہ ہوا، پھر ہم نے وہ گھر بدل لیا تو ہمارے افراد و اموال میں کمی آگئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” «دَعُوهَا ذَمِيمَةً» اس گھر کو چھوڑ دو کیونکہ یہ گھر اچھا نہیں۔“ اسنادہ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الطب والرقى/حدیث: 4589]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3924)
٭ عکرمة بن عمار مدلس و عنعن .
تعديلات [4589] :
إسناده صحيح، رواه أبو داود (3924)
٭ عکرمة بن عمار صرح بالسماع عند البزار (البحر الزخار 79/13ح 6427)»
٭ عکرمة بن عمار مدلس و عنعن .
تعديلات [4589] :
إسناده صحيح، رواه أبو داود (3924)
٭ عکرمة بن عمار صرح بالسماع عند البزار (البحر الزخار 79/13ح 6427)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 4589 in Urdu