علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (تعبير سوارين من ذهب)
سونے کے کنگن کی تعبیر
حدیث نمبر: 4619
4619 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِخَزَائِنِ الْأَرْضِ، فَوُضِعَ فِي كَفَّيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَكَبُرَا عَلَيَّ، فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنِ انْفُخْهُمَا، نَفَخْتُهُمَا، فَذَهَبَا، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا: صَاحِبَ صَنْعَاءَ وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ:"يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا مُسَيْلِمَةُ صَاحِبُ الْيَمَامَةِ، وَالْعَنْسِيُّ صَاحِبُ صَنْعَاءَ"لَمْ أَجِدْ هَذِهِ الرِّوَايَةَ فِي"الصَّحِيحَيْنِ"، وَذَكَرَهَا صَاحِبُ"الْجَامِعِ"عَنِ التِّرْمِذِيِّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسی اثنا میں کہ میں سو رہا تھا کہ مجھ پر زمین کے خزانے پیش کیے گئے، میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن رکھ دیے گئے تو وہ مجھ پر گراں گزرے، پھر میری طرف وحی کی گئی کہ میں انہیں پھونک ماروں، میں نے پھونک ماری تو وہ دونوں جاتے رہے، میں نے ان کی یہ تعبیر کی کہ اس سے مراد وہ دو جھوٹے شخص ہیں، میں ان کے درمیان ہوں، ایک (اسود عنسی) صنعاء سے اور ایک (مسیلمہ کذاب) یمامہ سے۔ “ اور ایک روایت میں ہے: ”ان دونوں میں سے ایک مسیلمہ یمامہ کا رہنے والا اور عنسی صنعاء کا رہنے والا۔ “ لیکن میں نے یہ روایت صحیحین میں نہیں پائی اور صاحب الجامع نے اسے ترمذی سے روایت کیا ہے۔ متفق علیہ و الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرؤيا/حدیث: 4619]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4375) و مسلم (2274/22) و الترمذي (2292)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 4619 in Urdu