🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (بَيَانُ الفِتَنِ المُخْتَلِفَةِ)
مختلف فتنوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5396
5396 - وَعَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيَكُونُ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ  ، كَمَا كَانَ قَبْلَهُ شَرٌّ؟ قَالَ:"نَعَمْ"، قُلْتُ: فَمَا الْعِصْمَةُ؟ قَالَ:"السَّيْفُ"، قُلْتُ: وَهَلْ بَعْدَ السَّيْفِ بَقِيَّةٌ؟ قَالَ"نَعَمْ"تَكُونُ إِمَارَةُ أَقْذَاءٍ، وَهُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ". قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:"ثُمَّ يَنْشَأُ دُعَاةُ الضَّلَالِ، فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ جَلَدَ ظَهْرَكَ، وَأَخَذَ مَالَكَ، فَأَطِعْهُ، وَإِلَّا فَمُتْ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جَذْلِ شَجَرَةٍ"، قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:"ثُمَّ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ بَعْدَ ذَلِكَ، مَعَهُ نَهْرٌ وَنَارٌ، فَمَنْ وَقَعَ فِي نَارِهِ، وَجَبَ أَجْرُهُ، وَحُطَّ وِزْرُهُ، وَمَنْ وَقَعَ فِي نَهْرِهِ، وَجَبَ وِزْرُهُ، وَحُطَّ أَجْرُهُ". قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ يُنْتَجُ الْمُهْرُ فَلَا يُرْكَبُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ"، وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ:"هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ، وَجَمَاعَةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الْهُدْنَةُ عَلَى الدَّخَنِ مَا هِيَ؟ قَالَ:"لَا تَرْجِعُ قُلُوبُ أَقْوَامٍ عَلَى الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ"، قُلْتُ: بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ:"فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ، عَلَيْهَا دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ النَّارِ، فَإِنْ مُتَّ يَا حُذَيْفَةُ! وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جَذْلٍ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتْبَعَ أَحَدًا مِنْهُمْ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس خیر (یعنی اسلام) کے بعد شر ہوگا جس طرح اس سے پہلے شر (یعنی کفر) تھا؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ میں نے عرض کیا: بچاؤ کا کوئی راستہ ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تلوار۔“ میں نے عرض کیا، کیا تلوار کے بعد (اہل اسلام میں سے) کوئی باقی ہوگا؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”امارت کے نتیجے میں فساد ہوگا، صلح نفاق پر ہوگی اور اتحاد مفاد پرستی پر ہوگا۔“ میں نے عرض کیا، پھر کیا ہوگا؟ فرمایا: ”داعیانِ گمراہی ظاہر ہوں گے، اگر اللہ کے لیے زمین پر کوئی خلیفہ ہو وہ (از راہِ ظلم) تیری پشت پر مارے اور تیرا مال لے لے تو تو اس کی اطاعت کر، بصورتِ دیگر (اگر خلیفہ نہ ہو) تو اس طرح فوت ہو کہ تو درخت کی جڑ پکڑے ہوئے ہو۔“ میں نے عرض کیا، پھر کیا ہوگا؟ فرمایا: ”پھر اس کے بعد دجال کا ظہور ہوگا اس کے ساتھ نہر اور آگ ہوگی، جو شخص اس کی آگ میں داخل ہو گیا تو اس کا اجر واجب ہو گیا اور اس کے گناہ مٹا دیے گئے، اور جو شخص اس کی نہر میں داخل ہو گیا تو اس کا گناہ واجب ہو گیا اور اس کا اجر ختم کر دیا گیا۔“ حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا، پھر کیا ہوگا؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”پھر گھوڑے کا بچہ پیدا ہوگا اور وہ ابھی سواری کے قابل نہیں ہوگا کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔“ ایک روایت میں ہے، فرمایا: ”کدورت پر صلح، اور مفاد پر اعتماد ہوگا۔“ میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! کدورت پر صلح سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے دل (محبت کی) اس حالت پر نہیں آئیں گے جس پر وہ پہلے تھے۔“ میں نے عرض کیا، اس خیر کے بعد شر ہوگا؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اندھا بہرا فتنہ، اس (فتنے) پر داعیان ہوں گے (گویا) وہ ابوابِ جہنم پر (کھڑے) ہیں، حذیفہ! اگر تم درخت کی جڑ کو پکڑے ہوئے فوت ہوئے تو وہ تیرے لیے اس سے بہتر ہے کہ تو ان میں سے کسی (فتنے) کی اتباع کرے۔“ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفتن/حدیث: 5396]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (4244، صحيح، 4247، حسن)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح


Mishkat al-Masabih Hadith 5396 in Urdu