علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بيان الفتن المختلفة)
مختلف فتنوں کا بیان
حدیث نمبر: 5396
5396 - وَعَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيَكُونُ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ ، كَمَا كَانَ قَبْلَهُ شَرٌّ؟ قَالَ:"نَعَمْ"، قُلْتُ: فَمَا الْعِصْمَةُ؟ قَالَ:"السَّيْفُ"، قُلْتُ: وَهَلْ بَعْدَ السَّيْفِ بَقِيَّةٌ؟ قَالَ"نَعَمْ"تَكُونُ إِمَارَةُ أَقْذَاءٍ، وَهُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ". قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:"ثُمَّ يَنْشَأُ دُعَاةُ الضَّلَالِ، فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ جَلَدَ ظَهْرَكَ، وَأَخَذَ مَالَكَ، فَأَطِعْهُ، وَإِلَّا فَمُتْ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جَذْلِ شَجَرَةٍ"، قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:"ثُمَّ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ بَعْدَ ذَلِكَ، مَعَهُ نَهْرٌ وَنَارٌ، فَمَنْ وَقَعَ فِي نَارِهِ، وَجَبَ أَجْرُهُ، وَحُطَّ وِزْرُهُ، وَمَنْ وَقَعَ فِي نَهْرِهِ، وَجَبَ وِزْرُهُ، وَحُطَّ أَجْرُهُ". قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ يُنْتَجُ الْمُهْرُ فَلَا يُرْكَبُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ"، وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ:"هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ، وَجَمَاعَةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الْهُدْنَةُ عَلَى الدَّخَنِ مَا هِيَ؟ قَالَ:"لَا تَرْجِعُ قُلُوبُ أَقْوَامٍ عَلَى الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ"، قُلْتُ: بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ:"فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ، عَلَيْهَا دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ النَّارِ، فَإِنْ مُتَّ يَا حُذَيْفَةُ! وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جَذْلٍ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتْبَعَ أَحَدًا مِنْهُمْ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس خیر (یعنی اسلام) کے بعد شر ہو گا جس طرح اس سے پہلے شر (یعنی کفر) تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ میں نے عرض کیا: بچاؤ کا کوئی راستہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تلوار۔ “ میں نے عرض کیا، کیا تلوار کے بعد (اہل اسلام میں سے) کوئی باقی ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”امارت کے نتیجہ میں فساد ہو گا، صلح نفاق پر ہو گی اور اتحاد مفاد پرستی پر ہو گا۔ “ میں نے عرض کیا، پھر کیا ہو گا؟ فرمایا: ”داعیان گمراہی ظاہر ہوں گے، اگر اللہ کے لیے زمین پر کوئی خلیفہ ہو وہ (از راہ ظلم) تیری پشت پر مارے اور تیرا مال لے لے تو تو اس کی اطاعت کر، بصورت دیگر (اگر خلیفہ نہ ہو) تو اس طرح فوت ہو کہ تو درخت کی جڑ پکڑے ہوئے ہو۔ “ میں نے عرض کیا، پھر کیا ہو گا؟ فرمایا: ”پھر اس کے بعد دجال کا ظہور ہو گا اس کے ساتھ نہر اور آگ ہو گی، جو شخص اس کی آگ میں داخل ہو گیا تو اس کا اجر واجب ہو گیا اور اس کے گناہ مٹا دیے گئے، اور جو شخص اس کی نہر میں داخل ہو گیا تو اس کا گناہ واجب ہو گیا اور اس کا اجر ختم کر دیا گیا۔ “ حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا، پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پھر گھوڑے کا بچہ پیدا ہو گا اور وہ ابھی سواری کے قابل نہیں ہو گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔ “ ایک روایت میں ہے، فرمایا: ”کدورت پر صلح، اور مفاد پر اعتماد ہو گا۔ “ میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! کدورت پر صلح سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے دل (محبت کی) اس حالت پر نہیں آئیں گے جس پر وہ پہلے تھے۔ “ میں نے عرض کیا، اس خیر کے بعد شر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اندھا بہرا فتنہ، اس (فتنے) پر داعیان ہوں گے (گویا) وہ ابواب جہنم پر (کھڑے) ہیں، حذیفہ! اگر تم درخت کی جڑ کو پکڑے ہوئے فوت ہوئے تو وہ تیرے لیے اس سے بہتر ہے کہ تو ان میں سے کسی (فتنے) کی اتباع کرے۔ “ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفتن/حدیث: 5396]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (4244، صحيح، 4247، حسن)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 5396 in Urdu