🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (أَنْوَرُ يَوْمٍ وَأَظْلَمُ يَوْمٍ)
سب سے روشن اور سب سے تاریک دن
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5962
الْفَصْلُ الثَّانِي 5962 - عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ لَعِبَتِ الْحَبَشَةُ بِحِرَابِهِمْ فَرَحًا بِقُدُومِهِ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَفِي رِوَايَةِ الدَّارِمِيِّ قَالَ: مَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ أَحْسَنَ وَلَا أَضْوَأَ مِنْ يَوْمٍ دَخَلَ عَلَيْنَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا كَانَ أقْبَحَ وَلَا أَظْلَمَ مِنْ يَوْمٍ مَاتَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -  . وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ قَالَ: لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ  أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، وَمَا نَفَضْنَا أَيْدِيَنَا عَنِ التُّرَابِ وَإِنَّا لَفِي دَفْنِهِ، حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ تشریف لائے تو حبشیوں نے آپ کی آمد کی خوشی پر اپنے نیزوں کا کھیل پیش کیا۔ اور دارمی کی روایت میں ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے اس روز سے، جس روز رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ تشریف لائے، زیادہ حسین اور زیادہ روشن کوئی دن نہیں دیکھا، اور میں نے اس دن سے، جس دن رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی، زیادہ قبیح اور زیادہ تاریک کوئی اور دن نہیں دیکھا۔ اور ترمذی کی روایت میں ہے، فرمایا: جس روز رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ میں داخل ہوئے تھے تو اس سے ہر چیز روشن ہو گئی تھی، چنانچہ جس دن آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی تھی اس سے ہر چیز تاریک ہو گئی تھی، ہم نے اپنے ہاتھ مٹی سے صاف نہیں کیے تھے اور ابھی ہم آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تدفین میں مصروف تھے کہ ہم نے اپنے دلوں کو اجنبی پایا۔ «إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ» ”اس کی سند صحیح ہے، اسے ابوداؤد، دارمی اور ترمذی نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5962]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (4923) و الدارمي (1/ 41 ح 89) و الترمذي (3618 وقال: صحيح غريب)
٭ سند أبي داود صحيح علي شرط الشيخين و سند الدارمي صحيح و سند الترمذي: حسن .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح


Mishkat al-Masabih Hadith 5962 in Urdu