مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (تَوَقُّفُ جَبَلِ حِرَاءٍ بِسَبَبِ وُجُودِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالعَشَرَةِ المُبَشَّرَةِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عشرہ مبشرہ کے ہونے سے حرا پہاڑ کا رک جانا
حدیث نمبر: 6117
6117 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ عَلَى حِرَاءٍ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"اهْدَأْ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ". وَزَادَ بَعْضُهُمْ: وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَلِيًّا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم حرا پر تھے کہ پتھر نے حرکت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہر جا، تجھ پر نبی، صدیق اور شہید ہیں۔“ اور بعض راویوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا اضافہ نقل کیا ہے اور علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6117]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (50/ 2417)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 6117 in Urdu