مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10263
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ سَلَمَةَ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ وَلَّى وَلَهُ حُصَاصٌ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ، أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ لِيُنْسِيَهُ صَلَاتَهُ، فَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَلِّمْ، ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے تاکہ وہ بھول جائے اس لئے جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے تو سلام پھیر کر بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10263]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، فليح قد خالف فيه من هو أوثق منه، انظر، خ: 608، م: 389
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 10263 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي