مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 10618
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أُمِّ صَفِيَّةَ , وَقَالَ يَعْقُوبُ: صُبَيَّةَ , وَهُوَ الصَّوَابُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي , لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ , وَلَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ , فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ , هَبَطَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ , يَقُولُ قَائِلٌ: أَلَا دَاعٍ يُجَابُ؟ أَلَا سَائِلٌ يُعْطِيهِ؟ أَلَا مُذْنِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرَ لَهُ؟" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے اور نماز عشاء کو تہائی یا نصف رات تک مؤخر کرنے کا حکم دیتا۔ کیونکہ تہائی یا نصف رات گذرنے کے بعد اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے عطاء کروں؟ ہے کوئی گناہوں کی معافی مانگنے والا کہ میں اسے معاف کروں؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اس کی توبہ قبول کروں؟ ہے کوئی پکارنے والا کہ اس کی پکار کو قبول کروں؟ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10618]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1145، م: 758، وهذا إسناد ضعيف، عطاء المدني، ومحمد بن إسحاق مدلسان وقد عنعنا
الرواة الحديث:
عطاء مولى أم صبية ← أبو هريرة الدوسي