مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 10918
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ , حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ الْحُرِّ النَّخَعِيُّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ , عَنْ كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ , فَقَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , هَلَكَ الْأَكْثَرُونَ , إِلَّا مَنْ قَالَ: هَكَذَا وَهَكَذَا , وَقَلِيلٌ مَا هُمْ" فَمَشَيْتُ مَعَهُ , ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" . قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَة تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟" , قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ: " حَقُّهُ أَنْ يَعْبُدُوهُ , لَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا" , ثُمَّ قَالَ:" تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ , فَإِنَّ حَقَّهُمْ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ , أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ" , قُلْتُ: أَفَلَا أُخْبِرُهُمْ , قَالَ:" دَعْهُمْ فَلْيَعْمَلُوا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اہل مدینہ میں سے کسی کے باغ میں چلا جارہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ! مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہلاک ہوگئے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ! کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں فرمایا یوں کہا کرو لاحول ولاقوۃ الاباللہ و لا ملجا من اللہ الا الیہ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر لوگوں کا کیا حق ہے؟ اور لوگوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں اور جب وہ یہ کرلیں تو اللہ پر ان کا حق یہ ہے کہ انہیں عذاب نہ دے۔ میں نے عرض کیا کہ کیا میں لوگوں کو اس سے مطلع نہ کردوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں عمل کرنے دو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10918]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر بن الحر .
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥كميل بن زياد النخعي كميل بن زياد النخعي ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥عبد الرحمن بن عابس النخعي عبد الرحمن بن عابس النخعي ← كميل بن زياد النخعي | ثقة | |
👤←👥جابر بن الحر النخعي جابر بن الحر النخعي ← عبد الرحمن بن عابس النخعي | مقبول | |
👤←👥محمد بن عبد الله الزبيرى، أبو أحمد محمد بن عبد الله الزبيرى ← جابر بن الحر النخعي | ثقة ثبت قد يخطئ في حديث الثوري |
كميل بن زياد النخعي ← أبو هريرة الدوسي