مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. مسنَد اَبِی سَعِید الخدرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 11627
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَرَّ بِهِ، فَقَالَ لَهُ: أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: أَرَدْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، وَعَنْ أَشْيَاءَ مِنَ الْأَشْرِبَةِ، وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ مُحَدِّثٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : سَمِعَتْ أُذُنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ:" إِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا، فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ مِنَ الْأَشْرِبَةِ أَوْ الْأَنْبِذَةِ، فَاشْرَبُوا، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَإِنْ زُرْتُمُوهَا فَلَا تَقُولُوا هُجْرًا".
عمرو بن ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گذرے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابو عبدالرحمن! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے فرمایا حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس جارہا ہوں، میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ اے ابوسعید! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی کا گوشت کھانے، کچھ مشروبات اور قبرستان جانے کی ممانعت کرتے ہوئے سنا ہے، لیکن مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا میں نے اپنے کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے تمہیں قربانی کا گوشت (تین دن سے زیادہ) رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم اسے کھا اور ذخیرہ کرسکتے ہو کیونکہ اللہ نے وسعت پیدا کردی ہے، نیز میں نے تمہیں کچھ مشروبات اور نبی ذوں سے منع کیا تھا، اب انہیں پی سکتے ہو، لیکن (یاد رہے کہ) ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب اگر تم وہاں جاؤ تو کوئی بےہودہ بات نہ کرنا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 11627]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عمرو بن ثابت وأبيه عمرو
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥عمرو بن ثابت العتواري عمرو بن ثابت العتواري ← أبو سعيد الخدري | مقبول | |
👤←👥محمد بن عمرو العتواري محمد بن عمرو العتواري ← عمرو بن ثابت العتواري | مجهول الحال | |
👤←👥فليح بن سليمان الأسلمي، أبو يحيى فليح بن سليمان الأسلمي ← محمد بن عمرو العتواري | صدوق كثير الخطأ | |
👤←👥يونس بن محمد المؤدب، أبو محمد يونس بن محمد المؤدب ← فليح بن سليمان الأسلمي | ثقة ثبت |
Musnad Ahmad Hadith 11627 in Urdu
عمرو بن ثابت العتواري ← أبو سعيد الخدري