مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسند على بن ابي طالب رضي الله عنه
حدیث نمبر: 1166
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْحُسَامِ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ عَادَ مَرِيضًا مَشَى فِي خِرَافِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَهُ اسْتَنْقَعَ فِي الرَّحْمَةِ، فَإِذَا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ وُكِّلَ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی مریض کی عیادت کے لئے جاتا ہے گویا وہ جنت کے باغات میں چلتا ہے، جب وہ بیمار کے پاس بیٹھتا ہے تو اللہ کی رحمت کے سمندر میں غوطے کھاتا ہے، اور جب وہاں سے واپس روانہ ہوتا ہے تو اس کے لئے ستر ہزار فرشتے مقرر کر دیئے جاتے ہیں جو اس دن اس کے لئے بخشش کی دعا مانگتے رہتے ہیں۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1166]
حکم دارالسلام: حسن، والصحيح وقفه، و هذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل من الانصار
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 1166 in Urdu
اسم مبهم ← علي بن أبي طالب الهاشمي