مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. مسند انس بن مالك رضي الله عنه
حدیث نمبر: 11999
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَا، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حِينَ صَلَّيْنَا الظُّهْرَ، فَدَعَا الْجَارِيَةَ بِوَضُوءٍ، فَقُلْنَا لَهُ: أَيُّ صَلَاةٍ تُصَلِّي؟، قَالَ: الْعَصْرَ، قَالَ: قُلْنَا: إِنَّمَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ الْآنَ!، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ، يَتْرُكُ الصَّلَاةَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ فِي قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ، أَوْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ صَلَّى لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا".
علاء ابن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں ایک انصاری آدمی کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا کچھ ہی دیر بعد انہوں نے باندی سے وضو کا پانی منگوایا، ہم نے ان سے پوچھا کہ اس وقت کون سی نماز پڑھ رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا نماز عصر، ہم نے کہا کہ ہم تو ابھی ظہر پڑھ کر آئے ہیں (عصر کی نماز اتنی جلدی؟) انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ منافق کی نماز ہے کہ منافق نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور اس میں اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 11999]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 6281 ، م: 2331
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥العلاء بن عبد الرحمن الحرقي، أبو شبل العلاء بن عبد الرحمن الحرقي ← أنس بن مالك الأنصاري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر ابن إسحاق القرشي ← العلاء بن عبد الرحمن الحرقي | صدوق مدلس | |
👤←👥محمد بن الفضيل الضبي، أبو عبد الرحمن محمد بن الفضيل الضبي ← ابن إسحاق القرشي | صدوق عارف رمي بالتشيع |
العلاء بن عبد الرحمن الحرقي ← أنس بن مالك الأنصاري