🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. مسند انس بن مالك رضي الله عنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12399
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ سورة الحجرات آية 2 إِلَى قَوْلِهِ وَأَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ سورة الحجرات آية 2، وَكَانَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ رَفِيعَ الصَّوْتِ، فَقَالَ: أَنَا الَّذِي كُنْتُ أَرْفَعُ صَوْتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَبِطَ عَمَلِي، أَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ! وَجَلَسَ فِي أَهْلِهِ حَزِينًا، فَتَفَقَّدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ بَعْضُ الْقَوْمِ إِلَيْهِ، فَقَالُوا لَهُ: تَفَقَّدَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا لَكَ؟، فَقَالَ: أَنَا الَّذِي أَرْفَعُ صَوْتِي فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ، وَأَجْهَرُ بِالْقَوْلِ، حَبِطَ عَمَلِي، وَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرُوهُ بِمَا قَالَ، فَقَالَ:" لَا، بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ"، قَالَ أَنَسٌ وَكُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْيَمَامَةِ كَانَ فِينَا بَعْضُ الِانْكِشَافِ، فَجَاءَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَقَدْ تَحَنَّطَ وَلَبِسَ كَفَنَهُ، فَقَالَ: بِئْسَمَا تُعَوِّدُونَ أَقْرَانَكُمْ، فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ "" اے ایمان والو! نبی کی آواز پر اپنی آواز کو اونچا نہ کیا کرو، تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ "" جن کی آواز قدرتی طور پر اونچی تھی "" کہنے لگے کہ میری ہی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی ہوتی ہے، اس لئے میرے سارے اعمال ضائع ہوگئے اور میں جہنمی بن گیا اور یہ سوچ کر اپنے گھر ہی میں غمگین ہو کر بیٹھ رہے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی غیر حاضری کے متعلق دریافت کیا تو کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری غیر حاضری کے متعلق پوچھ رہے تھے، کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگے کہ میں ہی تو وہ ہوں جس کی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی ہوتی ہے اور میں بات کرتے ہوئے اونچا بولتا ہوں، اس لئے میرے سارے اعمال ضائع ہوگئے اور میں جہنمی ہوگیا، لوگوں نے یہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر ذکر کردی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ وہ تو جنتی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے درمیان چلتے تھے اور ہمیں یقین تھا کہ وہ جنتی ہیں، جنگ یمامہ کے دن ہماری صفوں میں کچھ انتشار پیدا ہوا تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ آئے، اس وقت انہوں نے اپنے جسم پر حنوط مل رکھی تھی اور کفن پہنا ہوا تھا اور فرمانے لگے تم اپنے ہم نشینوں کی طرف برا لوٹے ہو، یہ کہہ کر وہ لڑتے لڑتے اتنا آگے بڑھ گئے کہ بالآخر شہید ہوگئے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 12399]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3613، م: 119

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥سليمان بن المغيرة القيسي، أبو سعيد
Newسليمان بن المغيرة القيسي ← ثابت بن أسلم البناني
ثقة ثقة
👤←👥هاشم بن القاسم الليثي، أبو النضر
Newهاشم بن القاسم الليثي ← سليمان بن المغيرة القيسي
ثقة ثبت
Musnad Ahmad Hadith 12399 in Urdu