مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. مسند انس بن مالك رضي الله عنه
حدیث نمبر: 12509
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ تَذَاكَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتْ الشَّمْسُ، وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا، لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا".
علاء ابن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم ظہر کی نماز پڑھ رہے کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، کچھ ہی دیر بعد وہ عصر کی نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے ان سے کہا کہ عصر کی نماز اتنی جلدی؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ منافق کی نماز ہے کہ منافق نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور چار ٹھونگیں مار کر اس میں اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 12509]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 622
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥العلاء بن عبد الرحمن الحرقي، أبو شبل العلاء بن عبد الرحمن الحرقي ← أنس بن مالك الأنصاري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← العلاء بن عبد الرحمن الحرقي | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥إسحاق بن عيسى البغدادي، أبو يعقوب إسحاق بن عيسى البغدادي ← مالك بن أنس الأصبحي | صدوق حسن الحديث |
العلاء بن عبد الرحمن الحرقي ← أنس بن مالك الأنصاري