مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. مسند انس بن مالك رضي الله عنه
حدیث نمبر: 12544
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْوَاتًا، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" قَالُوا: يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ، فَقَالَ:" لَوْ تَرَكُوهُ فَلَمْ يُلَقِّحُوهُ، لَصَلُحَ" فَتَرَكُوهُ، فَلَمْ يُلَقِّحُوهُ، فَخَرَجَ شِيصًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَكُمْ؟" قَالُوا: تَرَكُوهُ لِمَا قُلْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ، فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِهِ، فَإِذَا كَانَ مِنْ أَمْرِ دِينِكُمْ، فَإِلَيَّ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں کچھ آوازیں پڑیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کیسی آوازیں ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ کھجور کی پیوند کاری ہو رہی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ لوگ پیوند کاری نہ کریں تو شاید ان کے حق میں بہتر ہو، چنانچہ لوگوں نے اس سال پیوند کاری نہیں کی، جس کی وجہ سے اس سال کھجور کی فصل اچھی نہ ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ پوچھی تو صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ کے کہنے پر لوگوں نے پیوند کاری نہیں کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا کوئی دنیوی معاملہ ہو تو وہ تم مجھ سے بہتر جانتے ہو اور اگر دین کا معاملہ ہو تو اسے لے کر میرے پاس آیا کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 12544]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2363
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عبد الصمد بن عبد الوارث التميمي، أبو سهل عبد الصمد بن عبد الوارث التميمي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة |
Musnad Ahmad Hadith 12544 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري