مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. مسند انس بن مالك رضي الله عنه
حدیث نمبر: 13276
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْتَاعُ، وَكَانَ فِي عُقْدَتِهِ يَعْنِي عَقْلَهُ ضَعْفٌ، فَأَتَى أَهْلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، احْجُرْ عَلَى فُلَانٍ، فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، فَدَعَاهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ، فَقُلْ: هَاء وهاء وَلَا خِلَابَةَ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی " جس کی عقل میں کچھ کمزوری تھی " خریدو فروخت کیا کرتا تھا (اور دھوکہ کھاتا تھا) اس کے اہل خانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں شخص پر خریدو فروخت کی پابندی لگا دیں کیونکہ اس کی عقل کمزور ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر اسے خریدو فروخت کرنے سے منع کردیا، وہ کہنے لگا کہ اے اللہ کے نبی! میں اس کام سے نہیں رک سکتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم خریدو فروخت کو نہیں چھوڑ سکتے تو پھر معاملہ کرتے وقت یہ کہہ دیا کرو کہ اس معاملے میں کوئی دھوکہ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 13276]
حکم دارالسلام: حدیث صحیح، وھذا إسناد قوی
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر سعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة حافظ | |
👤←👥عبد الوهاب بن عطاء الخفاف، أبو نصر عبد الوهاب بن عطاء الخفاف ← سعيد بن أبي عروبة العدوي | صدوق حسن الحديث |
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري