پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. مسند انس بن مالك رضي الله عنه
حدیث نمبر: 13318
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" إِنِّي لَأَسْعَى فِي الْغِلْمَانِ، يَقُولُونَ: جَاءَ مُحَمَّدٌ، فَأَسْعَى، فَلَا أَرَى شَيْئًا، ثُمَّ يَقُولُونَ: جَاءَ مُحَمَّدٌ، فَأَسْعَى، فَلَا أَرَى شَيْئًا، قَالَ: حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَاحِبُهُ أَبُو بَكْرٍ، فَكَمَنَا فِي بَعْضِ حِرَارِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ بَعَثَا رَجُلًا مِنْ أَهْلِ البادية لِيُؤْذِنَ بِهِمَا الْأَنْصَارَ، فَاسْتَقْبَلَهُمَا زُهَاءَ خَمْسِ مِائَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَيْهِمَا، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: انْطَلِقَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبُهُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ، فَخَرَجَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، حَتَّى إِنَّ الْعَوَاتِقَ لَفَوْقَ الْبُيُوتِ يَتَرَاءَيْنَهُ، يَقُلْنَ: أَيُّهُمْ هُوَ؟ أَيُّهُمْ هُوَ؟ قَالَ: فَمَا رَأَيْنَا مَنْظَرًا شبيهًا بِهِ يَوْمَئِذٍ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَوْمَ دَخَلَ عَلَيْنَا وَيَوْمَ قُبِضَ، فَلَمْ أَرَ يَوْمَيْنِ شبيهًا بِهِمَا".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں بچوں کے ساتھ دوڑ رہا تھا، جب بچے یہ کہتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آگئے تو میں اتنا تیز دوڑتا کہ کچھ نہ دیکھتا، دوبارہ بچے یہی جملے کہتے تو میں پھر اتنا تیز دوڑنے لگتا کہ کچھ نہ دیکھتا تھا، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رفیق محترم حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، ہم اس وقت مدینہ کے کسی علاقے میں تھے، ہم نے ایک دیہاتی آدمی کو انصار کے پاس یہ خبر دے کر بھیجا اور پانچ سو کے قریب انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے کے لئے نکل پڑے، وہ لوگ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو کہنے لگے کہ آپ دونوں حضرات امن وامان کے ساتھ مطاع بن کر داخل ہوجائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے آگے آگے چلتے رہے اور سارے اہل مدینہ نکل آئے حتیٰ کہ خواتین بھی اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپس میں پوچھنے لگیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کون سے ہیں؟ ہم نے اس دن جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا، میں نے یہ دن بھی دیکھا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے اور وہ دن بھی دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے، ان دونوں دنوں جیسا منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 13318]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3911
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 13318 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري