مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. مسند انس بن مالك رضي الله عنه
حدیث نمبر: 13595
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَامَ جِيرَانُ الْمَسْجِدِ يَتَوَضَّئُونَ، وَبَقِيَ مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ وَالثَّمَانِينَ، وَكَانَتْ مَنَازِلُهُمْ بَعِيدَةً، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِخْضَبٍ فِيهِ مَاءٌ مَا هُوَ بِمَلْآنَ، فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ فِيهِ، وَجَعَلَ يَصُبُّ عَلَيْهِمْ، وَيَقُولُ: تَوَضَّئُوا، حَتَّى تَوَضَّئُوا كُلُّهُمْ، وَبَقِيَ فِي الْمِخْضَبِ نَحْوُ مَا كَانَ فِيهِ، وَهُمْ نَحْوُ السَّبْعِينَ إِلَى الْمِائَةِ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت آیا تو ہر وہ آدمی جس کا مدینہ منورہ میں گھر تھا وہ اٹھ کر قضاء حاجت اور وضو کے لئے چلا گیا، کچھ مہاجرین رہ گئے جن کا مدینہ میں کوئی گھر نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک کشادہ برتن پانی کا لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیاں اس میں رکھ دیں لیکن اس برتن میں اتنی گنجائش نہ تھی، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار انگلیاں ہی رکھ کر فرمایا قریب آکر اس سے وضو کرو، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک برتن میں ہی تھا، چنانچہ ان سب نے اس سے وضو کرلیا اور ایک آدمی بھی ایسا نہ رہا جس نے وضو نہ کیا ہو اور پھر بھی اس میں اتنا ہی پانی بچ گیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 13595]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 200، م: 2279
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان عفان بن مسلم الباهلي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت |
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري