🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. مسند انس بن مالك رضي الله عنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13975
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ :" أَنَّ هَوَازِنَ جَاءَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالنِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ وَالْإِبِلِ وَالْغَنَمِ، فَجَعَلُوهَا صُفُوفًا يُكْثِرُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا الْتَقَوْا وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ، كَمَا قَالَ اللَّهُ عز وجل، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عِبَادَ اللَّهِ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ"، قَالَ: فَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ، وَلَمْ يَضْرِبْ بِسَيْفٍ، وَلَمْ يَطْعَنْ بِرُمْحٍ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ:" مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ"، قَالَ: فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا، وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ، وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ لَهُ، وَأُجْهِضْتُ عَنْهُ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا: فَأُعْجِلْتُ عَنْهُ، فَانْظُرْ مَنْ أَخَذَهَا، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنَا أَخَذْتُهَا، فَأَرْضِهِ مِنْهَا وَأَعْطِنِيهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ، أَوْ سَكَتَ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ لَا يُفِيئُهَا اللَّهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ وَيُعْطِيكَهَا، قَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: صَدَقَ عُمَرُ، وَلَقِيَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَمَعَهَا خِنْجَرٌ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: مَا هَذَا مَعَكِ؟ قَالَتْ: أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّي بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ أَنْ أَبْعَجَ بِهِ بَطْنَهُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَلَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ؟ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ، انْهَزَمُوا بِكَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہوازن کے لوگ غزوہ حنین میں بچے، عورتیں، اونٹ اور بکریاں تک لے کر آئے تھے، انہوں نے اپنی کثرت ظاہر کرنے کے لئے ان سب کو بھی مختلف صفوں میں کھڑا کردیا، جب جنگ چھڑی تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو آواز دی کہ اے اللہ کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور رسول (یہاں) ہوں، اے گروہ انصار! میں اللہ کا بندہ اور رسول (یہاں) ہوں، اس کے بعد اللہ نے مسلمانوں کو فتح اور کافروں کو شکست سے دوچار کردیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن یہ اعلان فرمایا تھا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سارا سازوسامان قتل کرنے والے کو ملے گا، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے تنہا اس دن بیس کافروں کو قتل کیا تھا اور ان کا سازوسامان لے لیا تھا۔ اسی طرح حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک آدمی کو کندھے کی رسی پر مارا، اس نے زرہ پہن رکھی تھی، میں نے اسے بڑی مشکل سے قابو کر کے اپنی جان بچائی، آپ معلوم کرلیجئے کہ اس کا سامان کس نے لیا ہے؟ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا وہ سامان میں نے لے لیا ہے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ انہیں میری طرف سے اس پر راضی کرلیجئے اور یہ سامان مجھ ہی کو دے دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کا سوال کرتا تو اسے عطاء فرما دیتے یا پھر سکوت فرما لیتے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے بخدا! ایسا نہیں ہوسکتا کہ اللہ اپنے ایک شیر کو مال غنیمت عطاء کر دے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ تمہیں دے دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا عمر سچ کہہ رہے ہیں۔ غزوہ حنین ہی میں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے پاس ایک خنجر تھا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ یہ تمہارے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ میں نے اپنے پاس اس لئے رکھا ہے کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اسی سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ام سلیم کی بات سنی؟ پھر وہ کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو لوگ آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، انہیں قتل کروا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام سلیم! اللہ نے ہماری کفایت خود ہی فرمائی اور ہمارے ساتھ اچھا معاملہ کیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 13975]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥إسحاق بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو نجيح
Newإسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة حجة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← إسحاق بن عبد الله الأنصاري
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان
Newعفان بن مسلم الباهلي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت