مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 14258
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِيمَ الْعَمَلُ؟! أَفِي شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ، أَوْ فِي شَيْءٍ نَسْتَأْنِفُهُ؟ فَقَالَ:" بَلْ فِي شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ"، قَالَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا؟ قَالَ" اعْمَلُوا، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ آئے، اور کہنے لگے، یا رسول اللہ! عمل کس مقصد کے لئے ہے، کیا قلم اسے لکھ کر خشک ہو گئے اور تقدیر کا حکم نافذ ہو گیا یا پھر ہم اپنی تقدیر خود ہی بناتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قلم اسے لکھ کر خشک ہو چکے اور تقدیر کا حکم نافذ ہو گیا“، انہوں نے پوچھا کہ پھر عمل کا کیا فائد؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے اس عمل کو آسان کر دیا جائے گا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 14258]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، وانظر: 14116
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥محمد بن المنكدر القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر محمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | ثقة | |
👤←👥علي بن زيد القرشي، أبو الحسن علي بن زيد القرشي ← محمد بن المنكدر القرشي | ضعيف الحديث | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← علي بن زيد القرشي | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي |
Musnad Ahmad Hadith 14258 in Urdu
محمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري