مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 14112
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، قَال: أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَلَقٍ مِنْ أَفْلَاقِ الْحَرَّةِ وَنَحْنُ مَعَهُ، فَقَالَ:" نِعْمَتِ الْأَرْضُ الْمَدِينَةُ إِذَا خَرَجَ الدَّجَّالُ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِهَا مَلَكٌ، لَا يَدْخُلُهَا، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ، رَجَفَتْ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ، لَا يَبْقَى مُنَافِقٌ وَلَا مُنَافِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ، وَأَكْثَرُ يَعْنِي مَنْ يَخْرُجُ إِلَيْهِ النِّسَاءُ، وَذَلِكَ يَوْمُ التَّخْلِيصِ، وَذَلِكَ يَوْمَ تَنْفِي الْمَدِينَةُ الْخَبَثَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيد، يَكُونُ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْيَهُودِ، عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ سَاجٌ وَسَيْفٌ مُحَلًّى، فَتُضْرَبُ رَقَبَتُهُ بِهَذَا الضَّرْبِ الَّذِي عِنْدَ مُجْتَمَعِ السُّيُولِ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا كَانَتْ فِتْنَةٌ، وَلَا تَكُونُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، أَكْبَرَ مِنْ فِتْنَةِ الدّجَّالِ، وَلَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ، وَلَأُخْبِرَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مَا أَخْبَرَهُ نَبِيٌّ أُمَّتَهُ قَبْلِي"، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى عَيْنِهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک مرتبہ مقام حرہ کے کسی شگاف سے طلوع ہوئے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خروج دجال کے وقت مدینہ منورہ بہترین زمین ہو گی اس کے ہر سوراخ پر فرشتہ مقرر ہو گا جس کی وجہ سے دجال مدینہ منورہ میں داخل نہ ہو سکے گا۔ جب ایسا ہو گا تو مدینہ منورہ میں تین زلزلے آئیں گے اور کوئی منافق (خواہ وہ مرد ہو یا عورت) ایسے نہیں رہیں گے جو نکل کر دجال کے پاس چلا جائے اور ان میں بھی اکثریت خواتین کی ہو گی اسے یوم التخصیص کہا جائے گا کیونکہ یہ وہی دن ہو گا جس دن مدینہ منورہ اپنے میل کچیل کو اس طرح سے نکال دے گا جیسے لوہار کی بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔ دجال کے ساتھ ستر ہزار یہو دی ہوں گے جن میں سے ہر ایک نے سبز رنگ کی ریشمی چادر تاج اور زیورات سے مزین تلوار پہن رکھی ہو گی وہ اس جگہ پر اپنا خیمہ لگائے گا جہاں اب بارش کا پانی اکٹھا ہوتا ہے، پھر فرمایا کہ اب سے پہلے اور قیامت تک دجال سے بڑا کوئی فتنہ ہوا ہے اور نہ ہو گا اور ہر نبی نے اس سے اپنی امت کو ڈرایا ہے اور میں تمہیں اس کے متعلق ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے مجھ سے پہلے اپنی امت کو نہیں بتائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14112]
حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد منقطع، زيد - وهو ابن أسلم العدوي- لم يسمع من جابر
حدیث نمبر: 14113
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، قَالَ: سَأَلَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى، عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَة؟ فَقَالَ: تَبُلُّ الشَّعْرَ، وَتَغْسِلُ الْبَشَرَةَ، قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ، قَالَ:" كَانَ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، قَالَ: إِنَّ رَأْسِي كَثِيرُ الشَّعْرِ، قَالَ: كَانَ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ رَأْسِكَ وَأَطْيَبَ".
ایک مرتبہ حسن بن محمد نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے غسل جنابت کے متعلق پوچھا: انہوں نے فرمایا کہ بالوں کو خوب تربتر کر لو اور جسم کو دھو لو، انہوں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح غسل فرماتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اپنے سر سے پانی بہاتے تھے، وہ کہنے لگے کہ میرے تو بال بہت لمبے ہیں؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14113]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 14114
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" بَايَعْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم میدان جنگ سے راہ فرار اختیار نہیں کر یں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14114]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1856، سليمان بن قيس اليشكري سمع من جابر وكتبه عنه صحيفة ، جعفر بن أبى وحشية لم يسمع منه وإنما حدث عن صحيفة التى عن جابر وعن سلمة بن الأكوع 16509، وقد سئل: "علام بايعتم؟ قال: على الموت" وانظر الفتح: 6/ 117
حدیث نمبر: 14115
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: غَزَوْنَا أَوْ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ بِضْعَةَ عَشَرَ وَمِائَتَانِ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ فِي الْقَوْمِ مِنْ مَاءٍ؟" فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْعَى بِإِدَاوَةٍ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ، قَالَ: فَصَبَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَدَحٍ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، وَتَرَكَ الْقَدَحَ، فَرَكِبَ النَّاسُ الْقَدَحَ تَمْسَحُوا وَتَمْسَحُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى رِسْلِكُم"، حِينَ سَمِعَهُمْ يَقُولُونَ ذَلِكَ، قَالَ: فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِي الْمَاءِ وَالْقَدَحِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِسْمِ اللَّهِ"، ثُمَّ قَالَ:" أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ" فَوَالَّذِي هُوَ ابْتَلَانِي بِبَصَرِي، لَقَدْ رَأَيْتُ الْعُيُونَ، عُيُونَ الْمَاءِ، يَوْمَئِذٍ تَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فما رَفَعها حَتَّى تَوَضَّئُوا أَجْمَعُونَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غزوہ میں ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے اس وقت ہم لوگ دو سو سے کچھ زائد تھے، نماز کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کسی کے پاس پانی ہے؟“ ایک آدمی یہ سن کر دوڑتا ہوا ایک برتن لے کر آیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پانی کو ایک پیالے میں ڈالا اور اس سے خوب اچھی طرح وضو کیا وضو کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیالہ وہیں چھوڑ آئے، لوگ اس پیالے پر ٹوٹ پڑے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آوازیں سن کر فرمایا: ”رک جاؤ“ پھر اس پانی اور پیالے میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور بسم اللہ کہہ کر فرمایا: ”خوب اچھی طرح کامل وضو کرو“ اس ذات کی قسم جس نے مجھے آنکھوں کی نعمت عطاء فرمائی ہے، میں نے اس دن دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس وقت تک نہ اٹھایا جب تک سب لوگوں نے وضو نہ کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14115]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 3013
حدیث نمبر: 14116
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، مَعَنَا النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ، طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ"، قُلْنَا: أَيُّ الْحِلّ؟ قَالَ:" الْحِلُّ كُلُّهُ"، قَالَ: فَأَتَيْنَا النِّسَاءَ، وَلَبِسْنَا الثِّيَابَ، وَمَسِسْنَا الطِّيبَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ، وَكَفَانَا الطَّوَافُ الْأَوَّلُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ، كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ، فَجَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّا خُلِقْنَا الْآنَ، أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ، لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ فَقَالَ:" لا، بَلْ للأَبَدِ"، قال: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّا خُلِقْنَا الْآنَ، فِيمَا الْعَمَلُ الْيَوْمَ؟ أَفِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ، أَوْ فِيمَا نَسْتَقْبِلُ؟ قَالَ:" لَا، بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ"، قَالَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ: فَسَمِعْتُ مَنْ سَمِعَ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، يَقُولُ، قَالَ:" اعْمَلُوا، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ"، قَالَ حَسَنٌ، قَالَ زُهَيْرٌ: ثم لم أَفَهَمْ كلامًا تكَلَّمَ به أَبُو الزُّبير، فَسَأَلْتُ يَاسِينَ، فقلتُ: كيف قال أبو الزُّبيرِ في هذا الموضعِ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُهُ، يَقُولُ:" اعْمَلُوا، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے ہمارے ساتھ خواتین اور بچے بھی تھے جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا، صفا مروہ کی سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنا احرام کھول لے“ ہم نے پوچھا: اس صورت میں کیا چیزیں حلال ہو جائیں گی؟ فرمایا: ”سب چیزیں (جو احرام کی وجہ سے ممنوع ہو گئیں تھیں) حلال ہو جائیں گی“ چنانچہ اس کے بعد ہم اپنی بیویوں کے پاس بھی گئے، سلے ہوئے کپڑے بھی پہنے اور خوشبو بھی لگائی، آٹھ ذی الحجہ کو ہم نے حج کا احرام باندھا اس مرتبہ پہلے ہم نے طواف کیا اور سعی کافی ہو گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ایک ایک اونٹ اور گائے میں سات آدمی شریک ہو جائیں اسی دوران سیدنا سراقہ بن مالک بھی آ گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! ہمارے لئے دین کو اس طرح واضح کر دیجئے کہ گویا ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں، کیا عمرہ کا صرف حکم اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیشہ کے لئے ہے، پھر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ہمارے لئے دین کو اس طرح واضح کر دیجئے کہ گویا ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں آج کا عمل کس مقصد کے لئے ہے، کیا قلم اسے لکھ کر خشک ہو چکے اور تقدیر کا حکم نافذ ہو گیا؟ یا پھر ہم اپنی تقدیر خود بناتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قلم اسے لکھ کر خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے“ انہوں نے پوچھا کہ پھر عمل کا کیا فائدہ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے اس کے عمل کو آسان کر دیا جائے گا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14116]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1213 و 2648
حدیث نمبر: 14117
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا غُولَ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیماری متعدی ہونے، بدشگونی اور بھوت پریت کی کوئی حقیقت نہیں۔“ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14117]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2222
حدیث نمبر: 14118
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِر ، قَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، حَتَّى يُصْلِحَ شِسْعَهُ، وَلَا يَمْشِ فِي خُفٍّ وَاحِدَةٍ، وَلَا يَأْكُلْ بِشِمَالِهِ، وَلَا يَحْتَبيِ بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ، وَلَا يَلْتَحِفُ الصَّمَّاءَ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے جب تک دوسرے کو ٹھیک نہ کر لے اور صرف ایک موزہ پہن کر بھی نہ چلے، بائیں ہاتھ سے نہ کھائے، ایک کپڑے میں اپنا جسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کر بیٹھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14118]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2099، وقد صرح أبو الزبير بسماعه من جابر عند المصنف برقم: 14187، فانتفت شبهة تدليسه
حدیث نمبر: 14119
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي كَرِب ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِلَى خَشَبَةٍ، فَلَمَّا جُعِلَ مِنْبَرٌ، حَنَّتْ حَنِينَ النَّاقَةِ إِلَى وَلَدِهَا، فَأَتَاهَا، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا، فَسَكَنَتْ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک لکڑی پر سہارا لگا کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے، جب منبر بن گیا تو لکڑی کا وہ تنا اس طرح رونے لگا جیسے اونٹنی اپنے بچے کے لئے روتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس چل کر آئے اور اپنا دست مبارک اس پر رکھا تو وہ خاموش ہوا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14119]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 918
حدیث نمبر: 14120
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14120]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 353، م: 518، وأبو الزبير قد صرح بالسماع عند غير المصنف
حدیث نمبر: 14121
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ، أَوْ يَمْشِيَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، أَوْ يَحْتَبيِ بِثَوْبٍ وَاحِدٍ، أَوْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے جب تک دوسری کو نہ ٹھیک کر لے اور صرف ایک موزہ پہن کر بھی نہ چلے، بائیں ہاتھ سے نہ کھائے، ایک کپڑے میں اپنا جسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کر بیٹھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14121]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2099