مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 14306
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو ، سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ نَكَحْتَ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" أَبِكْرًا، أَمْ ثَيِّبًا؟" قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ:" فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ!"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ تِسعَ بَنَاتٍ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَجْمَعَ إِلَيْهِنَّ خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ، وَلَكِنْ امْرَأَةً تُمَشِّطُهُنَّ، وَتُقِومُ عَلَيْهِنَّ، قَالَ:" أَصَبْتَ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! پوچھا: کنواری سے یا شوہر دیدہ سے؟ میں نے عرض کیا: شوہر دیدہ سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے نکاح کیوں نہیں کیا کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے والد صاحب غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے اور انہوں نے سات بیٹیاں چھوڑیں میں نے ان ہی جیسی بیوقوف کو لانا مناسب نہ سمجھا میں نے سوچا کہ ایسی عورت ہو جو ان کی دیکھ بھال کر سکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے صحیح کیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 14306]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4052، م: 715
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد عمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | ثقة ثبت | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي | ثقة حافظ حجة |
Musnad Ahmad Hadith 14306 in Urdu
عمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري