مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 14317
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ذَكَرُوا الرَّجُلَ يُهِلُّ بِعُمْرَةٍ فَيَحِلُّ، هَلْ لَهُ أَنْ يَأْتِيَ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟ فَسَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ: لَا، حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21.
عمرو کہتے ہیں کہ علماء میں ایک مرتبہ اس بات کا ذکر ہوا کہ اگر کوئی آدمی عمرہ کا احرام باندھے پھر حلال ہو جائے تو کیا وہ صفا مروہ کی سعی کئے بغیر آ سکتا ہے؟ میں نے یہ مسئلہ پوچھا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے، تو انہوں نے فرمایا کہ جب تک صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کر لے اس وقت تک حلال نہیں ہو گا، یہی سوال میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ نے خانہ کعبہ کے گرد طواف کے سات چکر لگائے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی تھی پھر فرمایا کہ تمہارے لئے پیغمبر اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 14317]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 395، 396، م- الشطر الثاني-: 1234، وانظر: 4641
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد عمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | ثقة ثبت | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي | ثقة حافظ حجة |
Musnad Ahmad Hadith 14317 in Urdu
عمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري