مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 14642
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ، فَكَلَّمَتْهُ، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَأَشَارَ زُهَيْرٌ بِكَفِّهِ، ثُمَّ كَلَّمْتُهُ، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ، وَيُومِئُ بِرَأْسِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ:" مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ لَهُ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنومصطلق کی طرف جاتے ہوئے مجھے کسی کام سے بھیج دیا میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے میں نے بات کرنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا دو مرتبہ اس طرح ہوا پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرأت کرتے ہوئے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے جس کام کے لئے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا بنا میں نے جواب اس لئے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 14642]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1217، م: 540
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 14642 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري